ابر آیا ہے خمار آیا ہے
Lutfullah Khan Nazmi (1907–1985)ابر آیا ہے خمار آیا ہے
چہرۂ گل پہ نکھار آیا ہے
جب کہیں ذکر بہار آیا ہے
جھومتا بادہ گسار آیا ہے
سر بکف آج غزال آتے ہیں
کون یاں بہر شکار آیا ہے
نہ ملا محمل لیلیٰ کا سراغ
قیس ہر سمت پکار آیا ہے
اوج پر ہے دل ناداں کا نصیب
اس پہ آج ان کو بھی پیار آیا ہے
کہہ رہے ہیں وہ خدا خیر کرے
ہم پہ تو ہوتا نثار آیا ہے
جب شگوفہ کوئی گلشن میں کھلا
سامنے جلوۂ یار آیا ہے
لٹا صبر اور سکوں پھر نظمیؔ
جب ذرا دل کو قرار آیا ہے