حسن کا حال یہ با دیدۂ تر دیکھا ہے
Lutfullah Khan Nazmi (1907–1985)حسن کا حال یہ با دیدۂ تر دیکھا ہے
در بدر خاک بسر شام و سحر دیکھا ہے
ان گنہ گار نگاہوں نے جدھر دیکھا ہے
ایک اجڑا ہوا سپنوں کا نگر دیکھا ہے
دل خوش فہم نے اک خواب شجر دیکھا ہے
شومیٔ بخت کہ بے برگ و ثمر دیکھا ہے
داد خواہی کی نہیں اہل چمن کو توفیق
جان دینے میں اسیروں نے مفر دیکھا ہے
آخر کار ہوا قید زمیں سے آزاد
ماہ و انجم نے یہ اقدام بشر دیکھا ہے
مصلحت کوش رفیقوں سے ہے دوری لازم
نہ ہوئے وقت پہ وہ سینہ سپر دیکھا ہے
جیسے ہو غیب سے مژدہ کوئی آنے والا
میں نے پیہم کبھی یوں جانب در دیکھا ہے