خوش ہیں انعام ملا ہو جیسے
Lutfullah Khan Nazmi (1907–1985)خوش ہیں انعام ملا ہو جیسے
درد بھی کوئی دوا ہو جیسے
ایسے جیتے ہیں سزا ہو جیسے
جرم سنگین کیا ہو جیسے
تلخیٔ ضبط فغاں کیا کہئے
زہر کا گھونٹ پیا ہو جیسے
اپنی تہذیب سے دوری اے دوست
جسم سے روح جدا ہو جیسے
یوں گزر جاتا ہے کچھ عہد شباب
موجۂ باد صبا ہو جیسے
عشق کیا حسن بھی ہے نوحہ کناں
ماتم مرگ وفا ہو جیسے
ساٹھویں سالگرہ کی تصویر
کوئی منزل پہ لٹا ہو جیسے
زہر غم پیتے رہو یوں نظمیؔ
زہر غم آب بقا ہو جیسے