Poetry
Poet
Meter
- جب عشق تھا تو دل کا اجالا تھا دہر میںکوئی چراغ نور بداماں نہیں ہے ابSaba Akbarabadi (1908–1991)
- خواہشوں نے دل کو تصویر تمنا کر دیااک نظر نے آئنے میں عکس گہرا کر دیاSaba Akbarabadi (1908–1991)
- دوستوں سے یہ کہوں کیا کہ مری قدر کروابھی ارزاں ہوں کبھی پاؤ گے نایاب مجھےSaba Akbarabadi (1908–1991)
- رواں ہے قافلۂ روح التفات ابھیہماری راہ سے ہٹ جائے کائنات ابھیSaba Akbarabadi (1908–1991)
- روشنی خود بھی چراغوں سے الگ رہتی ہےدل میں جو رہتے ہیں وہ دل نہیں ہونے پاتےSaba Akbarabadi (1908–1991)
- سمجھے گا آدمی کو وہاں کون آدمیبندہ جہاں خدا کو خدا مانتا نہیںSaba Akbarabadi (1908–1991)
- سو بار جس کو دیکھ کے حیران ہو چکےجی چاہتا ہے پھر اسے اک بار دیکھناSaba Akbarabadi (1908–1991)
- عشق آتا نہ اگر راہ نمائی کے لئےآپ بھی واقف منزل نہیں ہونے پاتےSaba Akbarabadi (1908–1991)
- غلط فہمیوں میں جوانی گزاریکبھی وہ نہ سمجھے کبھی ہم نہ سمجھےSaba Akbarabadi (1908–1991)
- غم دوراں کو بڑی چیز سمجھ رکھا تھاکام جب تک نہ پڑا تھا غم جاناں سے ہمیںSaba Akbarabadi (1908–1991)
- کام آئے گی مزاج عشق کی آشفتگیاور کچھ ہو یا نہ ہو ہنگامۂ محفل سہیSaba Akbarabadi (1908–1991)
- کب تک نجات پائیں گے وہم و یقیں سے ہمالجھے ہوئے ہیں آج بھی دنیا و دیں سے ہمSaba Akbarabadi (1908–1991)
- کب تک یقین عشق ہمیں خود نہ آئے گاکب تک مکاں کا حال کہیں گے مکیں سے ہمSaba Akbarabadi (1908–1991)
- کفر و اسلام کے جھگڑے کو چکا دو صاحبجنگ آپس میں کریں شیخ و برہمن کب تکSaba Akbarabadi (1908–1991)
- کمال ضبط میں یوں اشک مضطر ٹوٹ کر نکلااسیر غم کوئی زنداں سے جیسے چھوٹ کر نکلاSaba Akbarabadi (1908–1991)
- کون اٹھائے عشق کے انجام کی جانب نظرکچھ اثر باقی ہیں اب تک حیرت آغاز کےSaba Akbarabadi (1908–1991)
- کیا مآل دہر ہے میری محبت کا مآلہیں ابھی لاکھوں فسانے منتظر آغاز کےSaba Akbarabadi (1908–1991)
- گئے تھے نقد گرانمایۂ خلوص کے ساتھخرید لائے ہیں سستی عداوتیں کیا کیاSaba Akbarabadi (1908–1991)
- مسافران رہ شوق سست گام ہو کیوںقدم بڑھائے ہوئے ہاں قدم بڑھائے ہوئےSaba Akbarabadi (1908–1991)
- ہوس پرست ادیبوں پہ حد لگے کوئیتباہ کرتے ہیں لفظوں کی عصمتیں کیا کیاSaba Akbarabadi (1908–1991)
- اس کا تو غم نہیں دل دیوانہ جل گیاظالم یہ غم ہے تیرا صنم خانہ جل گیاHabeeb Ahmad Siddiqui (b. 1908)
- ان نگاہوں کو عجب طرز کلام آتا ہےایسا لگتا ہے بہاروں کا پیام آتا ہےHabeeb Ahmad Siddiqui (b. 1908)
- اور اے چشم طرب بادۂ گلفام ابھیدل ہے بیگانۂ اندیشۂ انجام ابھیHabeeb Ahmad Siddiqui (b. 1908)
- اے دل یہ سعیٔ ضبط کہیں رائیگاں نہ ہوڈرتا ہوں پھر وہ دشمن جاں مہرباں نہ ہوHabeeb Ahmad Siddiqui (b. 1908)
- بھلا دینے والوں کی یاد آ رہی ہےبھلائے ہوئے خواب دکھلا رہی ہےHabeeb Ahmad Siddiqui (b. 1908)
- جبیں نواز کسی کی فسوں گری کیوں ہےسرشت حسن میں اس درجہ دل کشی کیوں ہےHabeeb Ahmad Siddiqui (b. 1908)
- خزاں نصیب کی حسرت بروئے کار نہ ہوبہار شعبدۂ چشم انتظار نہ ہوHabeeb Ahmad Siddiqui (b. 1908)
- دنیا کو روشناس حقیقت نہ کر سکےہم جتنا چاہتے تھے محبت نہ کر سکےHabeeb Ahmad Siddiqui (b. 1908)
- فیض پہنچے ہیں جو بہاروں سےپوچھتے کیا ہو دل نگاروں سےHabeeb Ahmad Siddiqui (b. 1908)
- کچھ بھی دشوار نہیں عزم جواں کے آگےآشیاں بنتے گئے برق تپاں کے آگےHabeeb Ahmad Siddiqui (b. 1908)
- مجھ کو دماغ شیون و آہ و فغاں نہیںاک آتش خموش ہوں جس میں دھواں نہیںHabeeb Ahmad Siddiqui (b. 1908)
- مجھے آماجگاہ ناوک بیداد رہنے دےجو اس کا نام بربادی ہے تو برباد رہنے دےHabeeb Ahmad Siddiqui (b. 1908)
- نوید آمد فصل بہار بھی تو نہیںیہ بے دلی ہے کہ اب انتظار بھی تو نہیںHabeeb Ahmad Siddiqui (b. 1908)
- نہ بیتابی نہ آشفتہ سری ہےہماری زندگی کیا زندگی ہےHabeeb Ahmad Siddiqui (b. 1908)
- وہ درد عشق جس کو حاصل ایماں بھی کہتے ہیںسیہ بختوں میں اس کو گردش دوراں بھی کہتے ہیںHabeeb Ahmad Siddiqui (b. 1908)
- ہر چند اس نے خوگر آزار کر دیانغمات زندگی کو تو بیدار کر دیاHabeeb Ahmad Siddiqui (b. 1908)
- ہوش و ہمت آزما شان تجمل کیوں نہیںوہ کسی کا آشنایانہ تغافل کیوں نہیںHabeeb Ahmad Siddiqui (b. 1908)
- یوں تبسم ریز ہے دل چشم خنداں دیکھ کرجیسے دریا مسکرائے ماہ تاباں دیکھ کرHabeeb Ahmad Siddiqui (b. 1908)
- یہ غم نہیں ہے کہ اب آہ نارسا بھی نہیںیہ کیا ہوا کہ مرے لب پہ التجا بھی نہیںHabeeb Ahmad Siddiqui (b. 1908)
- آپ شرمندہ جفاؤں پہ نہ ہوںجن پہ گزری تھی وہی بھول گئےHabeeb Ahmad Siddiqui (b. 1908)
- آشنا جب تک نہ تھا اس کی نگاہ لطف سےواردات قلب کو حسن بیاں سمجھا تھا میںHabeeb Ahmad Siddiqui (b. 1908)
- اب بہت دور نہیں منزل دوستکعبے سے چند قدم اور سہیHabeeb Ahmad Siddiqui (b. 1908)
- اب تو جو شے ہے مری نظروں میں ہے ناپائیداریاد آیا میں کہ غم کو جاوداں سمجھا تھا میںHabeeb Ahmad Siddiqui (b. 1908)
- اپنے دامن میں ایک تار نہیںاور ساری بہار باقی ہےHabeeb Ahmad Siddiqui (b. 1908)
- اظہار غم کیا تھا بہ امید التفاتکیا پوچھتے ہو کتنی ندامت ہے آج تکHabeeb Ahmad Siddiqui (b. 1908)
- اک فصل گل کو لے کے تہی دست کیا کریںآئی ہے فصل گل تو گریباں بھی چاہئےHabeeb Ahmad Siddiqui (b. 1908)
- ایک کعبہ کے صنم توڑے تو کیانسل و ملت کے صنم خانے بہتHabeeb Ahmad Siddiqui (b. 1908)
- بتائے کون کسی کو نشان منزل زیستابھی تو حجت باہم ہے رہ گزر کے لئےHabeeb Ahmad Siddiqui (b. 1908)
- بصد ادائے دلبری ہے التجائے مے کشییہ ہوش اب کسے کہ مے حرام یا حلال ہےHabeeb Ahmad Siddiqui (b. 1908)
- تسلیم ہے سعادت ہوش و خرد مگرجینے کے واسطے دل ناداں بھی چاہئےHabeeb Ahmad Siddiqui (b. 1908)