Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download

Poetry

Poet
Meter
  1. جب عشق تھا تو دل کا اجالا تھا دہر میںکوئی چراغ نور بداماں نہیں ہے ابSaba Akbarabadi (1908–1991)
  2. خواہشوں نے دل کو تصویر تمنا کر دیااک نظر نے آئنے میں عکس گہرا کر دیاSaba Akbarabadi (1908–1991)
  3. دوستوں سے یہ کہوں کیا کہ مری قدر کروابھی ارزاں ہوں کبھی پاؤ گے نایاب مجھےSaba Akbarabadi (1908–1991)
  4. رواں ہے قافلۂ روح التفات ابھیہماری راہ سے ہٹ جائے کائنات ابھیSaba Akbarabadi (1908–1991)
  5. روشنی خود بھی چراغوں سے الگ رہتی ہےدل میں جو رہتے ہیں وہ دل نہیں ہونے پاتےSaba Akbarabadi (1908–1991)
  6. سمجھے گا آدمی کو وہاں کون آدمیبندہ جہاں خدا کو خدا مانتا نہیںSaba Akbarabadi (1908–1991)
  7. سو بار جس کو دیکھ کے حیران ہو چکےجی چاہتا ہے پھر اسے اک بار دیکھناSaba Akbarabadi (1908–1991)
  8. عشق آتا نہ اگر راہ نمائی کے لئےآپ بھی واقف منزل نہیں ہونے پاتےSaba Akbarabadi (1908–1991)
  9. غلط فہمیوں میں جوانی گزاریکبھی وہ نہ سمجھے کبھی ہم نہ سمجھےSaba Akbarabadi (1908–1991)
  10. غم دوراں کو بڑی چیز سمجھ رکھا تھاکام جب تک نہ پڑا تھا غم جاناں سے ہمیںSaba Akbarabadi (1908–1991)
  11. کام آئے گی مزاج عشق کی آشفتگیاور کچھ ہو یا نہ ہو ہنگامۂ محفل سہیSaba Akbarabadi (1908–1991)
  12. کب تک نجات پائیں گے وہم و یقیں سے ہمالجھے ہوئے ہیں آج بھی دنیا و دیں سے ہمSaba Akbarabadi (1908–1991)
  13. کب تک یقین عشق ہمیں خود نہ آئے گاکب تک مکاں کا حال کہیں گے مکیں سے ہمSaba Akbarabadi (1908–1991)
  14. کفر و اسلام کے جھگڑے کو چکا دو صاحبجنگ آپس میں کریں شیخ و برہمن کب تکSaba Akbarabadi (1908–1991)
  15. کمال ضبط میں یوں اشک مضطر ٹوٹ کر نکلااسیر غم کوئی زنداں سے جیسے چھوٹ کر نکلاSaba Akbarabadi (1908–1991)
  16. کون اٹھائے عشق کے انجام کی جانب نظرکچھ اثر باقی ہیں اب تک حیرت آغاز کےSaba Akbarabadi (1908–1991)
  17. کیا مآل دہر ہے میری محبت کا مآلہیں ابھی لاکھوں فسانے منتظر آغاز کےSaba Akbarabadi (1908–1991)
  18. گئے تھے نقد گرانمایۂ خلوص کے ساتھخرید لائے ہیں سستی عداوتیں کیا کیاSaba Akbarabadi (1908–1991)
  19. مسافران رہ شوق سست گام ہو کیوںقدم بڑھائے ہوئے ہاں قدم بڑھائے ہوئےSaba Akbarabadi (1908–1991)
  20. ہوس پرست ادیبوں پہ حد لگے کوئیتباہ کرتے ہیں لفظوں کی عصمتیں کیا کیاSaba Akbarabadi (1908–1991)
  21. اس کا تو غم نہیں دل دیوانہ جل گیاظالم یہ غم ہے تیرا صنم خانہ جل گیاHabeeb Ahmad Siddiqui (b. 1908)
  22. ان نگاہوں کو عجب طرز کلام آتا ہےایسا لگتا ہے بہاروں کا پیام آتا ہےHabeeb Ahmad Siddiqui (b. 1908)
  23. اور اے چشم طرب بادۂ گلفام ابھیدل ہے بیگانۂ اندیشۂ انجام ابھیHabeeb Ahmad Siddiqui (b. 1908)
  24. اے دل یہ سعیٔ ضبط کہیں رائیگاں نہ ہوڈرتا ہوں پھر وہ دشمن جاں مہرباں نہ ہوHabeeb Ahmad Siddiqui (b. 1908)
  25. بھلا دینے والوں کی یاد آ رہی ہےبھلائے ہوئے خواب دکھلا رہی ہےHabeeb Ahmad Siddiqui (b. 1908)
  26. جبیں نواز کسی کی فسوں گری کیوں ہےسرشت حسن میں اس درجہ دل کشی کیوں ہےHabeeb Ahmad Siddiqui (b. 1908)
  27. خزاں نصیب کی حسرت بروئے کار نہ ہوبہار شعبدۂ چشم انتظار نہ ہوHabeeb Ahmad Siddiqui (b. 1908)
  28. دنیا کو روشناس حقیقت نہ کر سکےہم جتنا چاہتے تھے محبت نہ کر سکےHabeeb Ahmad Siddiqui (b. 1908)
  29. فیض پہنچے ہیں جو بہاروں سےپوچھتے کیا ہو دل نگاروں سےHabeeb Ahmad Siddiqui (b. 1908)
  30. کچھ بھی دشوار نہیں عزم جواں کے آگےآشیاں بنتے گئے برق تپاں کے آگےHabeeb Ahmad Siddiqui (b. 1908)
  31. مجھ کو دماغ شیون و آہ و فغاں نہیںاک آتش خموش ہوں جس میں دھواں نہیںHabeeb Ahmad Siddiqui (b. 1908)
  32. مجھے آماجگاہ ناوک بیداد رہنے دےجو اس کا نام بربادی ہے تو برباد رہنے دےHabeeb Ahmad Siddiqui (b. 1908)
  33. نوید آمد فصل بہار بھی تو نہیںیہ بے دلی ہے کہ اب انتظار بھی تو نہیںHabeeb Ahmad Siddiqui (b. 1908)
  34. نہ بیتابی نہ آشفتہ سری ہےہماری زندگی کیا زندگی ہےHabeeb Ahmad Siddiqui (b. 1908)
  35. وہ درد عشق جس کو حاصل ایماں بھی کہتے ہیںسیہ بختوں میں اس کو گردش دوراں بھی کہتے ہیںHabeeb Ahmad Siddiqui (b. 1908)
  36. ہر چند اس نے خوگر آزار کر دیانغمات زندگی کو تو بیدار کر دیاHabeeb Ahmad Siddiqui (b. 1908)
  37. ہوش و ہمت آزما شان تجمل کیوں نہیںوہ کسی کا آشنایانہ تغافل کیوں نہیںHabeeb Ahmad Siddiqui (b. 1908)
  38. یوں تبسم ریز ہے دل چشم خنداں دیکھ کرجیسے دریا مسکرائے ماہ تاباں دیکھ کرHabeeb Ahmad Siddiqui (b. 1908)
  39. یہ غم نہیں ہے کہ اب آہ نارسا بھی نہیںیہ کیا ہوا کہ مرے لب پہ التجا بھی نہیںHabeeb Ahmad Siddiqui (b. 1908)
  40. آپ شرمندہ جفاؤں پہ نہ ہوںجن پہ گزری تھی وہی بھول گئےHabeeb Ahmad Siddiqui (b. 1908)
  41. آشنا جب تک نہ تھا اس کی نگاہ لطف سےواردات قلب کو حسن بیاں سمجھا تھا میںHabeeb Ahmad Siddiqui (b. 1908)
  42. اب بہت دور نہیں منزل دوستکعبے سے چند قدم اور سہیHabeeb Ahmad Siddiqui (b. 1908)
  43. اب تو جو شے ہے مری نظروں میں ہے ناپائیداریاد آیا میں کہ غم کو جاوداں سمجھا تھا میںHabeeb Ahmad Siddiqui (b. 1908)
  44. اپنے دامن میں ایک تار نہیںاور ساری بہار باقی ہےHabeeb Ahmad Siddiqui (b. 1908)
  45. اظہار غم کیا تھا بہ امید التفاتکیا پوچھتے ہو کتنی ندامت ہے آج تکHabeeb Ahmad Siddiqui (b. 1908)
  46. اک فصل گل کو لے کے تہی دست کیا کریںآئی ہے فصل گل تو گریباں بھی چاہئےHabeeb Ahmad Siddiqui (b. 1908)
  47. ایک کعبہ کے صنم توڑے تو کیانسل و ملت کے صنم خانے بہتHabeeb Ahmad Siddiqui (b. 1908)
  48. بتائے کون کسی کو نشان منزل زیستابھی تو حجت باہم ہے رہ گزر کے لئےHabeeb Ahmad Siddiqui (b. 1908)
  49. بصد ادائے دلبری ہے التجائے مے کشییہ ہوش اب کسے کہ مے حرام یا حلال ہےHabeeb Ahmad Siddiqui (b. 1908)
  50. تسلیم ہے سعادت ہوش و خرد مگرجینے کے واسطے دل ناداں بھی چاہئےHabeeb Ahmad Siddiqui (b. 1908)