آرائش گیسوئے سخن کرتے رہیں گے

Lutfullah Khan Nazmi (1907–1985)

آرائش گیسوئے سخن کرتے رہیں گے

بے خوف و خطر خدمت فن کرتے رہیں گے

ہم تازہ روایات کہن کرتے رہیں گے

آباد رہ دار و رسن کرتے رہیں گے

تاریخ میں کہلائیں گے ہم ظلم کے حامی

برداشت اگر رنج و محن کرتے رہیں گے

مجھ کو ہے یقیں میرے وطن کے کئی فرہاد

تیشے سے رواں گنگ و جمن کرتے رہیں گے

محتاج خبر کے نہیں رفتار صبا سے

اندازۂ حالات چمن کرتے رہیں گے

جس سے کہ بدل جائے رخ گردش دوراں

کوئی نہ کوئی ایسا جتن کرتے رہیں گے

صف باندھیں رہیں اہل وفا خم رہے سر بھی

وہ کہتے ہیں ہم حکم بزن کرتے رہیں گے

ہو دور خزاں لاکھ چمن پھر بھی چمن ہے

نظمیؔ دل و جاں نذر وطن کرتے رہیں گے