یہ مشت خاک مجھ کو اک جہاں معلوم ہوتی ہے

Lutfullah Khan Nazmi (1907–1985)

یہ مشت خاک مجھ کو اک جہاں معلوم ہوتی ہے

جو گرد کارواں ہے کارواں معلوم ہوتی ہے

مجھے چشم ستم جب مہرباں معلوم ہوتی ہے

تو ساری دنیا اپنی ہم عناں معلوم ہوتی ہے

اگر سمجھے تو کچھ صیاد اس کی آرزو سمجھے

جسے بجلی ہی زیب آشیاں معلوم ہوتی ہے

بھر آیا دل ترانے بلبل ناشاد کے سن کر

کہانی غم کی نغموں میں نہاں معلوم ہوتی ہے

کلی کا مسکرانا دامن گلچیں کو دعوت ہے

مری ہر آرزو کیوں گلستاں معلوم ہوتی ہے

محبت کا فسانہ کیا بس اک حرف تمنا ہے

ذرا سی بات ہے اور داستاں معلوم ہوتی ہے

مرا منہ دیکھتے ہیں دم بخود ہیں ساغر و مینا

تری محفل کی ہر شے راز داں معلوم ہوتی ہے