دل میں ہجوم شوق و تمنا ابھی سے ہے
Kaif Moradaabadi (1907–1976)دل میں ہجوم شوق و تمنا ابھی سے ہے
آنکھوں میں اک سرور کی دنیا ابھی سے ہے
حاضر نہیں ہوئے ہیں ابھی بزم دوست میں
لیکن خیال محو تماشا ابھی سے ہے
انفاس میں ابھی سے ہے اک حشر اضطراب
احساس میں قیامت صغریٰ ابھی سے ہے
ہر ہر خیال میں ہے ابھی سے بہار حسن
ہر ہر نظر میں برق تجلی ابھی سے ہے
بزم تصورات کا عالم نہ پوچھئے
زوروں پہ مہر و ماہ کا دھوکا ابھی سے ہے
کتنے حجاب ہیں نگہ شوق پر ابھی
اور سامنے وہ چہرۂ زیبا ابھی سے ہے
ساقی نہیں شراب نہیں میکدہ نہیں
لیکن فضا میں مستیٔ صہبا ابھی سے ہے
وہ آفتاب حسن ابھی روبرو نہیں
ہستی تمام رشک ثریا ابھی سے ہے
خود حسن نے دیا بھی نہیں ہے جواب عشق
اور عشق ہے کہ حسن سراپا ابھی سے ہے
وہ آئے بھی نہیں ہیں نگاہوں کے سامنے
ہونٹوں پہ اک لطیف سا شکوہ ابھی سے ہے
ہیں کتنی دور حسن کی آغوش ناز سے
لیکن سپردگی کی تمنا ابھی سے ہے
اور پھر اس اہتمام حضوری کے باوجود
کیا جانے کیوں فراق کا خطرہ ابھی سے ہے