جو اہرمن سے پڑا واسطہ مفر نہ ہوا

Lutfullah Khan Nazmi (1907–1985)

جو اہرمن سے پڑا واسطہ مفر نہ ہوا

کسی بھی بات پہ راضی وہ فتنہ گر نہ ہوا

نہ سوچا پہلے یہ عشاق کہتے پھرتے ہیں

کریں گے کیا کوئی وعدہ وفا اگر نہ ہوا

یہ بیڑا غرق ہوا جس کی نا خدائی میں

وہ کہہ رہا ہے کوئی مجھ سا دیدہ ور نہ ہوا

کریں جو وعدہ وہ اب دس ہزار سال کا ہو

ہزار سال کا دعویٰ تو معتبر نہ ہوا

یہ کوچہ عشق کا ہے عشق کا ارے نظمیؔ

ادھر نہ ہوگا کبھی یاس کا گزر نہ ہوا