اس چمن میں کبھی ایسے بھی بہار آ جائے
Faiyaz Gwaliari (1906–1980)اس چمن میں کبھی ایسے بھی بہار آ جائے
بے قراری کے مقدر میں قرار آ جائے
نہ دلوں میں کوئی دھڑکن ہے نہ سینوں میں تڑپ
موج طوفاں کوئی ساحل بہ کنار آ جائے
شاخ پر پھول یہ کانٹوں سے ابھر کر بولا
آج سردار وہی جو سر دار آ جائے
مر کے جینے میں ہے سرسبزیٔ گلزار کا راز
پھول کملائے تو کلیوں پہ نکھار آ جائے
محو آئینہ ہوا کرتا ہے آئینۂ دل
جس قدر صاف کرو اتنا غبار آ جائے
بے قراری میں ہی فیاضؔ ہے جینے کا مزہ
زندگی موت سمجھئے جو قرار آ جائے