ٹٹولنے پہ بھی دل کا نشاں نہیں ملتا
Faiyaz Gwaliari (1906–1980)ٹٹولنے پہ بھی دل کا نشاں نہیں ملتا
غضب خدا کا جہاں کا جہاں نہیں ملتا
بھٹک رہے ہیں خلاؤں میں حضرت انساں
نئی زمین نیا آسماں نہیں ملتا
کہاں ملے گا خدا یہ نہ پوچھئے مجھ سے
کوئی بتائے مجھے وہ کہاں نہیں ملتا
زمیں بھی گھوم رہی ہے زمین والے بھی
کسی کو چین تہہ آسماں نہیں ملتا
سکون ڈھونڈنے والے کمال کرتے ہیں
وہیں تلاش کریں گے جہاں نہیں ملتا
ترے سوال کے ملتے جواب اگر فیاضؔ
جواب کچھ تو ادھر سے بھی ہاں نہیں ملتا