وہ کسی پر جفا نہیں کرتے
Abid Ali Abid (1906–1971)وہ کسی پر جفا نہیں کرتے
اعتبار وفا نہیں کرتے
ایک ہم سے خفا ہے خلق خدا
لوگ دنیا میں کیا نہیں کرتے
اے نصیحت گرو خدا کے لئے
یوں نصیحت کیا نہیں کرتے
سر نہ کھاؤ کہ عشق لالہ رخاں
ہم نے کہہ جو دیا نہیں کرتے
سخت مشکل ہے دلبری دیکھیں
آپ کرتے ہیں یا نہیں کرتے
غم جاناں ہو یا غم دوراں
تیر ان کے خطا نہیں کرتے
مر بھی جائیں تو ہم سر محفل
ساقیا ساقیا نہیں کرتے
اے عزیزو تمہاری شرط نہیں
ہم تو اپنا کہا نہیں کرتے
دوست ہیں بے وفا مگر عابدؔ
منہ سے ایسا کہا نہیں کرتے