آپ جب بھی آ گئے ایسا لگا
Faiyaz Gwaliari (1906–1980)آپ جب بھی آ گئے ایسا لگا
آسماں قدموں سے میرے آ لگا
درد کا سنگیت بھی میٹھا لگا
جو بھی دل کو چھو گیا اچھا لگا
جانے کیوں دنیا کا درد اپنا لگا
ہم کو دشمن بھی ہمیں جیسا لگا
حسن کی نیچی نگاہیں دیکھ کر
عشق کا سر آسماں سے جا لگا
آخر اپنا دیش اپنا دیش ہے
پیار سے دیکھا جسے اپنا لگا
گود کے بچے میں ماں کا نور ہے
جس نے دیکھا آئنہ کا تارا لگا
کیوں نہیں فیاضؔ تجھ کو قدر دل
اچھے اچھوں کو تو دل اچھا لگا