چپ ہو کیوں میں نے کچھ کہا تو نہیں

Faiyaz Gwaliari (1906–1980)

چپ ہو کیوں میں نے کچھ کہا تو نہیں

ہو ہی جاتا غضب ہوا تو نہیں

راہ میں لاکھ مشکلیں آئیں

حوصلہ بڑھ گیا گھٹا تو نہیں

یوں بھی مرجھا گئیں کئی کلیاں

میں نے دیکھا مگر چھوا تو نہیں

وہ تو میرے جنوں کی باتیں تھیں

ہم نشیں تو نے کچھ سنا تو نہیں

پہلے دنیا جہاں کے غم دے دو

پھر کہو تجھ کو کچھ ہوا تو نہیں

آپ سے دور آپ کا فیاضؔ

کچھ برا ہو گیا ہے تھا تو نہیں