سبھی کی تھی نظر اس پر گریبانوں پہ کیا گزری

Faiyaz Gwaliari (1906–1980)

سبھی کی تھی نظر اس پر گریبانوں پہ کیا گزری

کسی نے یہ نہیں دیکھا کہ دیوانوں پہ کیا گزری

نہ پوچھو اس بھری محفل میں انسانوں پہ کیا گزری

ہوئے جب شمع کے ٹکڑے تو پروانوں پہ کیا گزری

دھواں بن کر اڑا جاتا ہے میخانے کا مے خانہ

میرا دل توڑ کے ساقی کہ پیمانوں پہ کیا گزری

ہر ایک جام مے گلگوں کا دعویدار بن بیٹھا

تری نیچی نظر اٹھتے ہی ایمانوں پہ کیا گزری

ہزاروں سال سر ساحل سے ٹکراتی رہیں موجیں

مری کشتی سے ٹکر لے کے طوفانوں پہ کیا گزری

ابھی فیاضؔ پھر تہذیب لے گی اک نئی کروٹ

یہ پھر تاریخ لکھے گی کہ انسانوں پہ کیا گزری