زخم پر زخم لے کے سینے میں
Faiyaz Gwaliari (1906–1980)زخم پر زخم لے کے سینے میں
لطف ہے مسکرا کے جینے میں
جی کے پینے میں پی کے جینے میں
فرق ہوتا ہے پینے پینے میں
دیکھو دیکھو نہ آبگینوں میں
تم نہا جاؤ گے پسینوں میں
پاس ہوتے ہوئے بھی دور رہے
کچھ قرینہ ہے یہ قرینوں میں
تھوڑا تھوڑا گناہ ہو شاید
تھوڑی تھوڑی شراب پینے میں
عزم ساحل ہے استوار اگر
آگ لگ جانے دو سفینے میں
ہے کوئی دل کا قدرداں فیاضؔ
اک خزانہ لئے ہوں سینے میں