جھونکے کی طرح عمر دو روزہ گزر گئی
Faiyaz Gwaliari (1906–1980)جھونکے کی طرح عمر دو روزہ گزر گئی
جانے کدھر سے آئی تھی جانے کدھر گئی
اس طرح دل تک آج کسی کی نظر گئی
دم بھر ٹھٹک کے عمر گریزاں ٹھہر گئی
افسانۂ حیات کی رنگینیاں نہ پوچھ
اتنی ہے عمر بڑھ گئی جتنی گزر گئی
سو انقلاب منتظر اک برہمی کے تھے
بکھری جو ان کی زلف تو دنیا سنور گئی
ہم تولتے رہے پر و بازوئے آرزو
اتنے میں التفات کی ساعت گزر گئی
رکھیں اب اہل ہوش قدم پھونک پھونک کر
اپنی تو جس طریق پہ گزری گزر گئی
بالیں پہ جلوہ ریز ہے حسن لطیف دوست
فیاضؔ آنکھ کھول نماز سحر گئی