Poetry

Poet
Meter
Clear
  1. انقلابAllama Iqbal (1877–1938)
  2. خوشامدAllama Iqbal (1877–1938)
  3. مناصبAllama Iqbal (1877–1938)
  4. یورپ اور یہودAllama Iqbal (1877–1938)
  5. نفسیات غلامیAllama Iqbal (1877–1938)
  6. بلشویک روسAllama Iqbal (1877–1938)
  7. آج اور کلAllama Iqbal (1877–1938)
  8. مشرقAllama Iqbal (1877–1938)
  9. سیاست افرنگAllama Iqbal (1877–1938)
  10. خواجگیAllama Iqbal (1877–1938)
  11. غلاموں کے لیےAllama Iqbal (1877–1938)
  12. اہل مصر سےAllama Iqbal (1877–1938)
  13. ابی سینیاAllama Iqbal (1877–1938)
  14. ابلیس کا فرمان اپنے سیاسی فرزندوں کے نامAllama Iqbal (1877–1938)
  15. جمعیت اقوام مشرقAllama Iqbal (1877–1938)
  16. سلطانی جاویدAllama Iqbal (1877–1938)
  17. جمہوریتAllama Iqbal (1877–1938)
  18. یورپ اور سوریاAllama Iqbal (1877–1938)
  19. مسولینیAllama Iqbal (1877–1938)
  20. گلہAllama Iqbal (1877–1938)
  21. انتدابAllama Iqbal (1877–1938)
  22. لادین سیاستAllama Iqbal (1877–1938)
  23. دام تہذیبAllama Iqbal (1877–1938)
  24. نصیحتAllama Iqbal (1877–1938)
  25. ایک بحری قزاق اور سکندرAllama Iqbal (1877–1938)
  26. جمعیت اقوامAllama Iqbal (1877–1938)
  27. شام و فلسطینAllama Iqbal (1877–1938)
  28. سیاسی پیشواAllama Iqbal (1877–1938)
  29. نفسیات غلامیAllama Iqbal (1877–1938)
  30. غلاموں کی نمازAllama Iqbal (1877–1938)
  31. فلسطینی عر ب سےAllama Iqbal (1877–1938)
  32. مشرق و مغربAllama Iqbal (1877–1938)
  33. نفسیات حاکمی (اصلاحات)Allama Iqbal (1877–1938)
  34. میرے کُہستاں! تجھے چھوڑ کے جاؤں کہاںتیری چٹانوں میں ہے میرے اَب و جدَ کی خاکAllama Iqbal (1877–1938)
  35. حقیقتِ ازَلی ہے رقابتِ اقوامنگاہِ پِیرِ فلک میں نہ میں عزیز، نہ تُوAllama Iqbal (1877–1938)
  36. تِری دُعا سے قضا تو بدل نہیں سکتیمگر ہے اس سے یہ ممکن کہ تُو بدل جائےAllama Iqbal (1877–1938)
  37. کیا چرخِ کج رو، کیا مہر، کیا ماہسب راہرو ہیں واماندۂ راہAllama Iqbal (1877–1938)
  38. یہ مَدرسہ یہ کھیل یہ غوغائے روارَواس عیشِ فراواں میں ہے ہر لحظہ غمِ نَوAllama Iqbal (1877–1938)
  39. جو عالمِ ایجاد میں ہے صاحبِ ایجادہر دَور میں کرتا ہے طواف اس کا زمانہAllama Iqbal (1877–1938)
  40. رومی بدلے، شامی بدلے، بدلا ہندُستانتُو بھی اے فرزندِ کُہستاں! اپنی خودی پہچانAllama Iqbal (1877–1938)
  41. زاغ کہتا ہے نہایت بدنُما ہیں تیرے پَرشَپرّک کہتی ہے تجھ کو کور چشم و بے ہُنرAllama Iqbal (1877–1938)
  42. عشق طینت میں فرومایہ نہیں مثلِ ہوَسپرِ شہباز سے ممکن نہیں پروازِ مگَسAllama Iqbal (1877–1938)
  43. وہی جواں ہے قبیلے کی آنکھ کا تاراشباب جس کا ہے بے داغ، ضرب ہے کاریAllama Iqbal (1877–1938)
  44. جس کے پرتوَ سے منوّر رہی تیری شبِ دوشپھر بھی ہو سکتا ہے روشن وہ چراغِ خاموشAllama Iqbal (1877–1938)
  45. لا دینی و لاطینی، کس پیچ میں اُلجھا تُوداَرو ہے ضعیفوں کا ’لَاغَالِبَ اِلّاَ ھُوْ‘Allama Iqbal (1877–1938)
  46. مجھ کو تو یہ دُنیا نظر آتی ہے دِگرگُوںمعلوم نہیں دیکھتی ہے تیری نظر کیاAllama Iqbal (1877–1938)
  47. بے جُرأتِ رِندانہ ہر عشق ہے رُوباہیبازُو ہے قوی جس کا، وہ عشق یدُاللّٰہیAllama Iqbal (1877–1938)
  48. آدم کا ضمیر اس کی حقیقت پہ ہے شاہدمشکل نہیں اے سالکِ رہ! عِلم فقیریAllama Iqbal (1877–1938)
  49. قوموں کے لیے موت ہے مرکز سے جُدائیہو صاحبِ مرکز تو خودی کیا ہے، خدائی!Allama Iqbal (1877–1938)
  50. آگ اس کی پھُونک دیتی ہے برنا و پیر کولاکھوں میں ایک بھی ہو اگر صاحبِ یقیںAllama Iqbal (1877–1938)