زاغ کہتا ہے نہایت بدنُما ہیں تیرے پَر

Allama Iqbal (1877–1938)

زاغ کہتا ہے نہایت بدنُما ہیں تیرے پَر

شَپرّک کہتی ہے تجھ کو کور چشم و بے ہُنر

لیکن اے شہباز! یہ مُرغانِ صحرا کے اچھُوت

ہیں فضائے نیلگوں کے پیچ و خَم سے بے خبر

ان کو کیا معلوم اُس طائر کے احوال و مقام

رُوح ہے جس کی دمِ پرواز سر تا پا نظر!