Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download →

Poetry

Hazaj Musamman Salim

ہزج مثمن سالم
Poet
Meter
Clear
  1. یہ کہنا اس سے اے قاصد جو محو خود پرستی ہےکہ تیرے دیکھنے کو آنکھ مدت سے ترستی ہےJaleel Manikpuri (1866–1946)
  2. کریں گے ظلم دنیا پر یہ بت اور آسماں کب تکرہے گا پیر یہ کب تک رہوگے تم جواں کب تکParveen Umm-e-Mushtaq (b. 1866)
  3. نکالی جائے کس ترکیب سے تقریر کی صورتوہ آئینہ کی صورت اور میں تصویر کی صورتParveen Umm-e-Mushtaq (b. 1866)
  4. نہ آیا کر کے وعدہ وصل کا اقرار تھا کیا تھاکسی کے بس میں تھا مجبور تھا لاچار تھا کیا تھاParveen Umm-e-Mushtaq (b. 1866)
  5. اسی دن سے مجھے دونوں کی بربادی کا خطرہ تھامکمل ہو چکے تھے جس گھڑی ارض و سما بن کرParveen Umm-e-Mushtaq (b. 1866)
  6. کسی کے سنگ در سے ایک مدت سر نہیں اٹھامحبت میں ادا کی ہیں نمازیں بے وضو برسوںParveen Umm-e-Mushtaq (b. 1866)
  7. اڑا سکتا نہیں کوئی مرے انداز شیون کوبمشکل کچھ سکھایا ہے نوا سنجان گلشن کوSaail Dehlvi (1867–1945)
  8. حق و ناحق جلانا ہو کسی کو تو جلا دیناکوئی روئے تمہارے سامنے تم مسکرا دیناSaail Dehlvi (1867–1945)
  9. ملے غیروں سے مجھ کو رنج و غم یوں بھی ہے اور یوں بھیوفا دشمن جفا جو کا ستم یوں بھی ہے اور یوں بھیSaail Dehlvi (1867–1945)
  10. ہمیشہ خون دل رویا ہوں میں لیکن سلیقے سےنہ قطرہ آستیں پر ہے نہ دھبا جیب و دامن پرSaail Dehlvi (1867–1945)
  11. ادا پریوں کی صورت حور کی آنکھیں غزالوں کیغرض مانگے کی ہر اک چیز ہے ان حسن والوں کیHafeez Jaunpuri (1868–1959)
  12. بتاؤں کیا کسی کو میں کہ تم کیا چیز ہو کیا ہومری حسرت مرے ارمان ہو میری تمنا ہوHafeez Jaunpuri (1868–1959)
  13. بگڑ جاتے تھے سن کر یاد ہے کچھ وہ زمانہ بھیکوئی کرتا تھا جب میری شکایت غائبانہ بھیHafeez Jaunpuri (1868–1959)
  14. حسینوں سے فقط صاحب سلامت دور کی اچھینہ ان کی دوستی اچھی نہ ان کی دشمنی اچھیHafeez Jaunpuri (1868–1959)
  15. محبت کیا بڑھی ہے وہم باہم بڑھتے جاتے ہیںہم ان کو آزماتے ہیں وہ ہم کو آزماتے ہیںHafeez Jaunpuri (1868–1959)
  16. مرے عیبوں کی اصلاحیں ہوا کیں بحث دشمن سےلیا ہے راہبر کا کام اکثر میں نے دشمن سےHafeez Jaunpuri (1868–1959)
  17. یہ سب کہنے کی باتیں ہیں کہ ایسا ہو نہیں سکتامحبت میں جو دل مل جائے پھر کیا ہو نہیں سکتاHafeez Jaunpuri (1868–1959)
  18. زمانے کا بھروسا کیا ابھی کچھ ہے ابھی کچھ ہےیہی ہے رنگ دنیا کا ابھی کچھ ہے ابھی کچھ ہےHafeez Jaunpuri (1868–1959)
  19. مرے بت خانے سے ہو کر چلا جا کعبے کو زاہدبظاہر فرق ہے باطن میں دونوں ایک رستے ہیںHafeez Jaunpuri (1868–1959)
  20. بتوں کو بھول جاتے ہیں خدا کو یاد کرتے ہیںبرہمن جب سفر سوئے الہ آباد کرتے ہیںZarif Lakhnavi (1870–1937)
  21. وہ ہو کیسا ہی دبلا تار بستر ہو نہیں سکتاغلط ہے آدمی اس طرح لاغر ہو نہیں سکتاZarif Lakhnavi (1870–1937)
  22. کریں گے سب یہ دعویٰ نقد دل جو ہار بیٹھے ہیںخفیفہ میں تمہارے عاشق نادار بیٹھے ہیںZarif Lakhnavi (1870–1937)
  23. ازل سے نقش دل ہے ناز جانانہ محمد کاکیا ہے لوح نے محفوظ افسانہ محمد کاArzoo Lakhnavi (1873–1951)
  24. عیاں ہے بے رخی چتون سے اور غصہ نگاہوں سےپیام خامشی اور وہ بھی دو دو نشر گاہوں سےArzoo Lakhnavi (1873–1951)
  25. خمستانِ ازل کا ساقیZafar Ali Khan (1873–1956)
  26. خدا نے آج تک اس قوم کی حالت نہیں بدلینہ ہو جس کو خیال آپ اپنی حالت کے بدلنے کاZafar Ali Khan (1873–1956)
  27. جبیں پر سادگی نیچی نگاہیں بات میں نرمیمخاطب کون کر سکتا ہے تم کو لفظ قاتل سےHasrat Mohani (1875–1951)
  28. سبھی کچھ ہو چکا ان کا ہمارا کیا رہا حسرتؔنہ دیں اپنا نہ دل اپنا نہ جاں اپنی نہ تن اپناHasrat Mohani (1875–1951)
  29. مجھے شکوہ نہیں برباد رکھ برباد رہنے دےمگر اللہ میرے دل میں اپنی یاد رہنے دےBedam Warsi (1876–1936)
  30. تصویر دردAllama Iqbal (1877–1938)
  31. انوکھی وضع ہے، سارے زمانے سے نرالے ہیںیہ عاشق کون سی بستی کے یا رب رہنے والے ہیںAllama Iqbal (1877–1938)
  32. کہوں کیا آرزوئے بے دلی مُجھ کو کہاں تک ہےمرے بازار کی رونق ہی سودائے زیاں تک ہےAllama Iqbal (1877–1938)
  33. جنھیں مَیں ڈھُونڈتا تھا آسمانوں میں زمینوں میںوہ نکلے میرے ظلمت خانۂ دل کے مکینوں میںAllama Iqbal (1877–1938)
  34. محبتAllama Iqbal (1877–1938)
  35. چمک تیری عیاں بجلی میں، آتش میں، شرارے میںجھلک تیری ہویدا چاند میں، سُورج میں، تارے میںAllama Iqbal (1877–1938)
  36. تضمین بر شعر انیسی شاملوAllama Iqbal (1877–1938)
  37. خطاب بہ جوانان اسلامAllama Iqbal (1877–1938)
  38. غلام قادر رہیلہAllama Iqbal (1877–1938)
  39. عُرفیAllama Iqbal (1877–1938)
  40. پھولوں کی شہز ادیAllama Iqbal (1877–1938)
  41. تضمین بر شعر صائبAllama Iqbal (1877–1938)
  42. پھولAllama Iqbal (1877–1938)
  43. طلوع اسلامAllama Iqbal (1877–1938)
  44. اگر کج رَو ہیں انجم، آسماں تیرا ہے یا میرامجھے فکرِ جہاں کیوں ہو، جہاں تیرا ہے یا میرا؟Allama Iqbal (1877–1938)
  45. دِگرگُوں ہے جہاں، تاروں کی گردش تیز ہے ساقیدل ہر ذرّہ میں غوغائے رستاخیز ہے ساقیAllama Iqbal (1877–1938)
  46. سما سکتا نہیں پہنائے فطرت میں مرا سوداغلَط تھا اے جُنوں شاید ترا اندازۂ صحراAllama Iqbal (1877–1938)
  47. مسلماں کے لہُو میں ہے سلیقہ دل نوازی کامرّوت حُسنِ عالم‌گیر ہے مردانِ غازی کاAllama Iqbal (1877–1938)
  48. دلِ بیدار فاروقی، دلِ بیدار کرّاریمِسِ آدم کے حق میں کیمیا ہے دل کی بیداریAllama Iqbal (1877–1938)
  49. زمِستانی ہوا میں گرچہ تھی شمشیر کی تیزینہ چھُوٹے مجھ سے لندن میں بھی آدابِ سحَرخیزیAllama Iqbal (1877–1938)
  50. خِردمندوں سے کیا پُوچھوں کہ میری ابتدا کیا ہےکہ مَیں اس فکر میں رہتا ہوں، میری انتہا کیا ہےAllama Iqbal (1877–1938)