Poetry
Hazaj Musamman Salim
ہزج مثمن سالم- یہ کہنا اس سے اے قاصد جو محو خود پرستی ہےکہ تیرے دیکھنے کو آنکھ مدت سے ترستی ہےJaleel Manikpuri (1866–1946)
- کریں گے ظلم دنیا پر یہ بت اور آسماں کب تکرہے گا پیر یہ کب تک رہوگے تم جواں کب تکParveen Umm-e-Mushtaq (b. 1866)
- نکالی جائے کس ترکیب سے تقریر کی صورتوہ آئینہ کی صورت اور میں تصویر کی صورتParveen Umm-e-Mushtaq (b. 1866)
- نہ آیا کر کے وعدہ وصل کا اقرار تھا کیا تھاکسی کے بس میں تھا مجبور تھا لاچار تھا کیا تھاParveen Umm-e-Mushtaq (b. 1866)
- اسی دن سے مجھے دونوں کی بربادی کا خطرہ تھامکمل ہو چکے تھے جس گھڑی ارض و سما بن کرParveen Umm-e-Mushtaq (b. 1866)
- کسی کے سنگ در سے ایک مدت سر نہیں اٹھامحبت میں ادا کی ہیں نمازیں بے وضو برسوںParveen Umm-e-Mushtaq (b. 1866)
- اڑا سکتا نہیں کوئی مرے انداز شیون کوبمشکل کچھ سکھایا ہے نوا سنجان گلشن کوSaail Dehlvi (1867–1945)
- حق و ناحق جلانا ہو کسی کو تو جلا دیناکوئی روئے تمہارے سامنے تم مسکرا دیناSaail Dehlvi (1867–1945)
- ملے غیروں سے مجھ کو رنج و غم یوں بھی ہے اور یوں بھیوفا دشمن جفا جو کا ستم یوں بھی ہے اور یوں بھیSaail Dehlvi (1867–1945)
- ہمیشہ خون دل رویا ہوں میں لیکن سلیقے سےنہ قطرہ آستیں پر ہے نہ دھبا جیب و دامن پرSaail Dehlvi (1867–1945)
- ادا پریوں کی صورت حور کی آنکھیں غزالوں کیغرض مانگے کی ہر اک چیز ہے ان حسن والوں کیHafeez Jaunpuri (1868–1959)
- بتاؤں کیا کسی کو میں کہ تم کیا چیز ہو کیا ہومری حسرت مرے ارمان ہو میری تمنا ہوHafeez Jaunpuri (1868–1959)
- بگڑ جاتے تھے سن کر یاد ہے کچھ وہ زمانہ بھیکوئی کرتا تھا جب میری شکایت غائبانہ بھیHafeez Jaunpuri (1868–1959)
- حسینوں سے فقط صاحب سلامت دور کی اچھینہ ان کی دوستی اچھی نہ ان کی دشمنی اچھیHafeez Jaunpuri (1868–1959)
- محبت کیا بڑھی ہے وہم باہم بڑھتے جاتے ہیںہم ان کو آزماتے ہیں وہ ہم کو آزماتے ہیںHafeez Jaunpuri (1868–1959)
- مرے عیبوں کی اصلاحیں ہوا کیں بحث دشمن سےلیا ہے راہبر کا کام اکثر میں نے دشمن سےHafeez Jaunpuri (1868–1959)
- یہ سب کہنے کی باتیں ہیں کہ ایسا ہو نہیں سکتامحبت میں جو دل مل جائے پھر کیا ہو نہیں سکتاHafeez Jaunpuri (1868–1959)
- زمانے کا بھروسا کیا ابھی کچھ ہے ابھی کچھ ہےیہی ہے رنگ دنیا کا ابھی کچھ ہے ابھی کچھ ہےHafeez Jaunpuri (1868–1959)
- مرے بت خانے سے ہو کر چلا جا کعبے کو زاہدبظاہر فرق ہے باطن میں دونوں ایک رستے ہیںHafeez Jaunpuri (1868–1959)
- بتوں کو بھول جاتے ہیں خدا کو یاد کرتے ہیںبرہمن جب سفر سوئے الہ آباد کرتے ہیںZarif Lakhnavi (1870–1937)
- وہ ہو کیسا ہی دبلا تار بستر ہو نہیں سکتاغلط ہے آدمی اس طرح لاغر ہو نہیں سکتاZarif Lakhnavi (1870–1937)
- کریں گے سب یہ دعویٰ نقد دل جو ہار بیٹھے ہیںخفیفہ میں تمہارے عاشق نادار بیٹھے ہیںZarif Lakhnavi (1870–1937)
- ازل سے نقش دل ہے ناز جانانہ محمد کاکیا ہے لوح نے محفوظ افسانہ محمد کاArzoo Lakhnavi (1873–1951)
- عیاں ہے بے رخی چتون سے اور غصہ نگاہوں سےپیام خامشی اور وہ بھی دو دو نشر گاہوں سےArzoo Lakhnavi (1873–1951)
- خمستانِ ازل کا ساقیZafar Ali Khan (1873–1956)
- خدا نے آج تک اس قوم کی حالت نہیں بدلینہ ہو جس کو خیال آپ اپنی حالت کے بدلنے کاZafar Ali Khan (1873–1956)
- جبیں پر سادگی نیچی نگاہیں بات میں نرمیمخاطب کون کر سکتا ہے تم کو لفظ قاتل سےHasrat Mohani (1875–1951)
- سبھی کچھ ہو چکا ان کا ہمارا کیا رہا حسرتؔنہ دیں اپنا نہ دل اپنا نہ جاں اپنی نہ تن اپناHasrat Mohani (1875–1951)
- مجھے شکوہ نہیں برباد رکھ برباد رہنے دےمگر اللہ میرے دل میں اپنی یاد رہنے دےBedam Warsi (1876–1936)
- تصویر دردAllama Iqbal (1877–1938)
- انوکھی وضع ہے، سارے زمانے سے نرالے ہیںیہ عاشق کون سی بستی کے یا رب رہنے والے ہیںAllama Iqbal (1877–1938)
- کہوں کیا آرزوئے بے دلی مُجھ کو کہاں تک ہےمرے بازار کی رونق ہی سودائے زیاں تک ہےAllama Iqbal (1877–1938)
- جنھیں مَیں ڈھُونڈتا تھا آسمانوں میں زمینوں میںوہ نکلے میرے ظلمت خانۂ دل کے مکینوں میںAllama Iqbal (1877–1938)
- محبتAllama Iqbal (1877–1938)
- چمک تیری عیاں بجلی میں، آتش میں، شرارے میںجھلک تیری ہویدا چاند میں، سُورج میں، تارے میںAllama Iqbal (1877–1938)
- تضمین بر شعر انیسی شاملوAllama Iqbal (1877–1938)
- خطاب بہ جوانان اسلامAllama Iqbal (1877–1938)
- غلام قادر رہیلہAllama Iqbal (1877–1938)
- عُرفیAllama Iqbal (1877–1938)
- پھولوں کی شہز ادیAllama Iqbal (1877–1938)
- تضمین بر شعر صائبAllama Iqbal (1877–1938)
- پھولAllama Iqbal (1877–1938)
- طلوع اسلامAllama Iqbal (1877–1938)
- اگر کج رَو ہیں انجم، آسماں تیرا ہے یا میرامجھے فکرِ جہاں کیوں ہو، جہاں تیرا ہے یا میرا؟Allama Iqbal (1877–1938)
- دِگرگُوں ہے جہاں، تاروں کی گردش تیز ہے ساقیدل ہر ذرّہ میں غوغائے رستاخیز ہے ساقیAllama Iqbal (1877–1938)
- سما سکتا نہیں پہنائے فطرت میں مرا سوداغلَط تھا اے جُنوں شاید ترا اندازۂ صحراAllama Iqbal (1877–1938)
- مسلماں کے لہُو میں ہے سلیقہ دل نوازی کامرّوت حُسنِ عالمگیر ہے مردانِ غازی کاAllama Iqbal (1877–1938)
- دلِ بیدار فاروقی، دلِ بیدار کرّاریمِسِ آدم کے حق میں کیمیا ہے دل کی بیداریAllama Iqbal (1877–1938)
- زمِستانی ہوا میں گرچہ تھی شمشیر کی تیزینہ چھُوٹے مجھ سے لندن میں بھی آدابِ سحَرخیزیAllama Iqbal (1877–1938)
- خِردمندوں سے کیا پُوچھوں کہ میری ابتدا کیا ہےکہ مَیں اس فکر میں رہتا ہوں، میری انتہا کیا ہےAllama Iqbal (1877–1938)