Poetry
Hazaj Musamman Salim
ہزج مثمن سالم- متفرقاتMirza Ghalib (1797–1869)
- نہ مانوں گا نصیحت پر نہ سنتا میں تو کیا کرتاکہ ہر ہر بات میں ناصح تمہارا نام لیتا تھاMomin Khan Momin (1800–1852)
- غضب ہے دیکھنے میں اچھی صورت آ ہی جاتی ہےنہیں روکے سے دل رکتا طبیعت آ ہی جاتی ہےImdad Ali Bahr (1810–1878)
- ملا کر خاک میں پھر خاک کو برباد کرتے ہیںغریبوں پر ستم کیا کیا ستم ایجاد کرتے ہیںLala Madhav Ram Jauhar (1810–1889)
- یہ واعظ کیسی بہکی بہکی باتیں ہم سے کرتے ہیںکہیں چڑھ کر شراب عشق کے نشے اترتے ہیںLala Madhav Ram Jauhar (1810–1889)
- تھمے آنسو تو پھر تم شوق سے گھر کو چلے جاناکہاں جاتے ہو اس طوفان میں پانی ذرا ٹھہرےLala Madhav Ram Jauhar (1810–1889)
- جو کچھ پڑتی ہے سر پر سب اٹھاتا ہے محبت میںجہاں دل آ گیا پھر آدمی مجبور ہوتا ہےLala Madhav Ram Jauhar (1810–1889)
- محبت کو چھپائے لاکھ کوئی چھپ نہیں سکتییہ وہ افسانہ ہے جو بے کہے مشہور ہوتا ہےLala Madhav Ram Jauhar (1810–1889)
- نہ وہ صورت دکھاتے ہیں نہ ملتے ہیں گلے آ کرنہ آنکھیں شاد ہوتیں ہیں نہ دل مسرور ہوتا ہےLala Madhav Ram Jauhar (1810–1889)
- سرکتی جائے ہے رخ سے نقاب آہستہ آہستہنکلتا آ رہا ہے آفتاب آہستہ آہستہAmeer Minai (1829–1900)
- ابھی آئے ابھی جاتے ہو جلدی کیا ہے دم لے لونہ چھیڑوں گا میں جیسی چاہے تم مجھ سے قسم لے لوAmeer Minai (1829–1900)
- خدا نے نیک صورت دی تو سیکھو نیک باتیں بھیبرے ہوتے ہو اچھے ہو کے یہ کیا بد زبانی ہےAmeer Minai (1829–1900)
- سمجھتا ہوں سبب کافر ترے آنسو نکلنے کادھواں لگتا ہے آنکھوں میں کسی کے دل کے جلنے کاAmeer Minai (1829–1900)
- بتان ماہ وش اجڑی ہوئی منزل میں رہتے ہیںکہ جس کی جان جاتی ہے اسی کے دل میں رہتے ہیںDagh Dehlvi (1831–1905)
- بھویں تنتی ہیں خنجر ہاتھ میں ہے تن کے بیٹھے ہیںکسی سے آج بگڑی ہے کہ وہ یوں بن کے بیٹھے ہیںDagh Dehlvi (1831–1905)
- جو ہو سکتا ہے اس سے وہ کسی سے ہو نہیں سکتامگر دیکھو تو پھر کچھ آدمی سے ہو نہیں سکتاDagh Dehlvi (1831–1905)
- قرینے سے عجب آراستہ قاتل کی محفل ہےجہاں سر چاہیئے سر ہے جہاں دل چاہیئے دل ہےDagh Dehlvi (1831–1905)
- کسی کی نرگس مخمور کچھ کہہ دے اشاروں میںمزہ ہے رات دن چلتی رہے پرہیزگاروں میںDagh Dehlvi (1831–1905)
- کوئی جانے تو کیا جانے وہ یکتا ہے ہزاروں میںستم گاروں میں عیاروں میں دل داروں میں یاروں میںDagh Dehlvi (1831–1905)
- گرہ جو پڑ گئی رنجش میں وہ مشکل سے نکلے گینہ ان کے دل سے نکلے گی نہ میرے دل سے نکلے گیDagh Dehlvi (1831–1905)
- مجھے اے اہل کعبہ یاد کیا مے خانہ آتا ہےادھر دیوانہ جاتا ہے ادھر مستانہ آتا ہےDagh Dehlvi (1831–1905)
- تمہارا دل مرے دل کے برابر ہو نہیں سکتاوہ شیشہ ہو نہیں سکتا یہ پتھر ہو نہیں سکتاDagh Dehlvi (1831–1905)
- خبر سن کر مرے مرنے کی وہ بولے رقیبوں سےخدا بخشے بہت سی خوبیاں تھیں مرنے والے میںDagh Dehlvi (1831–1905)
- کوئی نام و نشاں پوچھے تو اے قاصد بتا دیناتخلص داغؔ ہے وہ عاشقوں کے دل میں رہتے ہیںDagh Dehlvi (1831–1905)
- گریباں کو جنوں میں تا بہ دامن چاک ہونا تھاجواب جادۂ صحرائے وحشت ناک ہونا تھاJalal Lakhnavi (1832–1909)
- نہ ٹھیری جب کوئی تسکین دل کی شکل یاروں میںتو آ نکلے تڑپ کر ہم تمہارے بے قراروں میںJalal Lakhnavi (1832–1909)
- نہ ہو برہم جو بوسہ بے اجازت لے لیا میں نےچلو جانے دو بیتابی میں ایسا ہو ہی جاتا ہےJalal Lakhnavi (1832–1909)
- کوئی کیسا ہی ثابت ہو طبیعت آ ہی جاتی ہےخدا جانے یہ کیا آفت ہے آفت آ ہی جاتی ہےQalaq Meerathi (1835–1880)
- محبت وہ ہے جس میں کچھ کسی سے ہو نہیں سکتاجو ہو سکتا ہے وہ بھی آدمی سے ہو نہیں سکتاQalaq Meerathi (1835–1880)
- پڑا ہے دیر و کعبہ میں یہ کیسا غل خدا جانےکہ وہ پردہ نشیں باہر نہ آ جانے نہ جا جانےQalaq Meerathi (1835–1880)
- ہم اس کوچے میں اٹھنے کے لیے بیٹھے ہیں مدت سےمگر کچھ کچھ سہارا ہے ابھی بے دست و پائی کاQalaq Meerathi (1835–1880)
- بتوں سے بچ کے چلنے پر بھی آفت آ ہی جاتی ہےیہ کافر وہ قیامت ہیں طبیعت آ ہی جاتی ہےZaheer Dehlvi (1835–1911)
- جہاں میں کون کہہ سکتا ہے تم کو بے وفا تم ہویہ تھوڑی وضع داری ہے کہ دشمن آشنا تم ہوZaheer Dehlvi (1835–1911)
- یہ سب کہنے کی باتیں ہیں ہم ان کو چھوڑ بیٹھے ہیںجب آنکھیں چار ہوتی ہیں مروت آ ہی جاتی ہےZaheer Dehlvi (1835–1911)
- پھٹا پڑتا ہے جوبن اور جوش نوجوانی ہےوہ اب تو خودبخود جامے سے باہر ہوتے جاتے ہیںZaheer Dehlvi (1835–1911)
- مرادیں کوئی پاتا ہے کسی کی جان جاتی ہےہزاروں دیکھنے والے تری چتون کے بیٹھے ہیںZaheer Dehlvi (1835–1911)
- یہاں دیکھوں وہاں دیکھوں اسے دیکھوں اسے دیکھوںتمہاری خود نمائی نے مجھے ڈالا ہے حیرت میںZaheer Dehlvi (1835–1911)
- نتیجہ کیوں کر اچھا ہو نہ ہو جب تک عمل اچھانہیں بویا ہے تخم اچھا تو کب پاؤ گے پھل اچھاIsmail Meeruthi (1844–1917)
- چھڑا ہے راگ بھنورے کا ہوا کی ہے نئی دھن بھیغضب ہے سال کے بارہ مہینوں میں یہ پھاگن بھیAkbar Allahabadi (1846–1921)
- حرم کیا دیر کیا دونوں یہ ویراں ہوتے جاتے ہیںتمہارے معتقد گبرو مسلماں ہوتے جاتے ہیںAkbar Allahabadi (1846–1921)
- حسینوں کے گلے سے لگتی ہے زنجیر سونے کینظر آتی ہے کیا چمکی ہوئی تقدیر سونے کیAkbar Allahabadi (1846–1921)
- حیا سے سر جھکا لینا ادا سے مسکرا دیناحسینوں کو بھی کتنا سہل ہے بجلی گرا دیناAkbar Allahabadi (1846–1921)
- خودی گم کر چکا ہوں اب خوشی و غم سے کیا مطلبتعلق ہوش سے چھوڑا تو اب عالم سے کیا مطلبAkbar Allahabadi (1846–1921)
- خوشی کیا ہو جو میری بات وہ بت مان جاتا ہےمزا تو بے حد آتا ہے مگر ایمان جاتا ہےAkbar Allahabadi (1846–1921)
- دل زخمی سے خوں اے ہم نشیں کچھ کم نہیں نکلاتڑپنا تھا مگر قسمت میں لکھا دم نہیں نکلاAkbar Allahabadi (1846–1921)
- دل مایوس میں وہ شورشیں برپا نہیں ہوتیںامیدیں اس قدر ٹوٹیں کہ اب پیدا نہیں ہوتیںAkbar Allahabadi (1846–1921)
- زباں سے بے تعلق دل کو بزم یار میں دیکھاتعجب خیز ضبط اس محرم اسرار میں دیکھاAkbar Allahabadi (1846–1921)
- سکون قلب کی دولت کہاں دنیائے فانی میںبس اک غفلت سی ہو جاتی ہے اور وہ بھی جوانی میںAkbar Allahabadi (1846–1921)
- طریق عشق میں مجھ کو کوئی کامل نہیں ملتاگئے فرہاد و مجنوں اب کسی سے دل نہیں ملتاAkbar Allahabadi (1846–1921)
- عبث اس زندگی پر غافلوں کا فخر کرنا ہےیہ جینا کوئی جینا ہے کہ جس کے ساتھ مرنا ہےAkbar Allahabadi (1846–1921)