Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download →

Poetry

Hazaj Musamman Salim

ہزج مثمن سالم
Poet
Meter
Clear
  1. متفرقاتMirza Ghalib (1797–1869)
  2. نہ مانوں گا نصیحت پر نہ سنتا میں تو کیا کرتاکہ ہر ہر بات میں ناصح تمہارا نام لیتا تھاMomin Khan Momin (1800–1852)
  3. غضب ہے دیکھنے میں اچھی صورت آ ہی جاتی ہےنہیں روکے سے دل رکتا طبیعت آ ہی جاتی ہےImdad Ali Bahr (1810–1878)
  4. ملا کر خاک میں پھر خاک کو برباد کرتے ہیںغریبوں پر ستم کیا کیا ستم ایجاد کرتے ہیںLala Madhav Ram Jauhar (1810–1889)
  5. یہ واعظ کیسی بہکی بہکی باتیں ہم سے کرتے ہیںکہیں چڑھ کر شراب عشق کے نشے اترتے ہیںLala Madhav Ram Jauhar (1810–1889)
  6. تھمے آنسو تو پھر تم شوق سے گھر کو چلے جاناکہاں جاتے ہو اس طوفان میں پانی ذرا ٹھہرےLala Madhav Ram Jauhar (1810–1889)
  7. جو کچھ پڑتی ہے سر پر سب اٹھاتا ہے محبت میںجہاں دل آ گیا پھر آدمی مجبور ہوتا ہےLala Madhav Ram Jauhar (1810–1889)
  8. محبت کو چھپائے لاکھ کوئی چھپ نہیں سکتییہ وہ افسانہ ہے جو بے کہے مشہور ہوتا ہےLala Madhav Ram Jauhar (1810–1889)
  9. نہ وہ صورت دکھاتے ہیں نہ ملتے ہیں گلے آ کرنہ آنکھیں شاد ہوتیں ہیں نہ دل مسرور ہوتا ہےLala Madhav Ram Jauhar (1810–1889)
  10. سرکتی جائے ہے رخ سے نقاب آہستہ آہستہنکلتا آ رہا ہے آفتاب آہستہ آہستہAmeer Minai (1829–1900)
  11. ابھی آئے ابھی جاتے ہو جلدی کیا ہے دم لے لونہ چھیڑوں گا میں جیسی چاہے تم مجھ سے قسم لے لوAmeer Minai (1829–1900)
  12. خدا نے نیک صورت دی تو سیکھو نیک باتیں بھیبرے ہوتے ہو اچھے ہو کے یہ کیا بد زبانی ہےAmeer Minai (1829–1900)
  13. سمجھتا ہوں سبب کافر ترے آنسو نکلنے کادھواں لگتا ہے آنکھوں میں کسی کے دل کے جلنے کاAmeer Minai (1829–1900)
  14. بتان ماہ وش اجڑی ہوئی منزل میں رہتے ہیںکہ جس کی جان جاتی ہے اسی کے دل میں رہتے ہیںDagh Dehlvi (1831–1905)
  15. بھویں تنتی ہیں خنجر ہاتھ میں ہے تن کے بیٹھے ہیںکسی سے آج بگڑی ہے کہ وہ یوں بن کے بیٹھے ہیںDagh Dehlvi (1831–1905)
  16. جو ہو سکتا ہے اس سے وہ کسی سے ہو نہیں سکتامگر دیکھو تو پھر کچھ آدمی سے ہو نہیں سکتاDagh Dehlvi (1831–1905)
  17. قرینے سے عجب آراستہ قاتل کی محفل ہےجہاں سر چاہیئے سر ہے جہاں دل چاہیئے دل ہےDagh Dehlvi (1831–1905)
  18. کسی کی نرگس مخمور کچھ کہہ دے اشاروں میںمزہ ہے رات دن چلتی رہے پرہیزگاروں میںDagh Dehlvi (1831–1905)
  19. کوئی جانے تو کیا جانے وہ یکتا ہے ہزاروں میںستم گاروں میں عیاروں میں دل داروں میں یاروں میںDagh Dehlvi (1831–1905)
  20. گرہ جو پڑ گئی رنجش میں وہ مشکل سے نکلے گینہ ان کے دل سے نکلے گی نہ میرے دل سے نکلے گیDagh Dehlvi (1831–1905)
  21. مجھے اے اہل کعبہ یاد کیا مے خانہ آتا ہےادھر دیوانہ جاتا ہے ادھر مستانہ آتا ہےDagh Dehlvi (1831–1905)
  22. تمہارا دل مرے دل کے برابر ہو نہیں سکتاوہ شیشہ ہو نہیں سکتا یہ پتھر ہو نہیں سکتاDagh Dehlvi (1831–1905)
  23. خبر سن کر مرے مرنے کی وہ بولے رقیبوں سےخدا بخشے بہت سی خوبیاں تھیں مرنے والے میںDagh Dehlvi (1831–1905)
  24. کوئی نام و نشاں پوچھے تو اے قاصد بتا دیناتخلص داغؔ ہے وہ عاشقوں کے دل میں رہتے ہیںDagh Dehlvi (1831–1905)
  25. گریباں کو جنوں میں تا بہ دامن چاک ہونا تھاجواب جادۂ صحرائے وحشت ناک ہونا تھاJalal Lakhnavi (1832–1909)
  26. نہ ٹھیری جب کوئی تسکین دل کی شکل یاروں میںتو آ نکلے تڑپ کر ہم تمہارے بے قراروں میںJalal Lakhnavi (1832–1909)
  27. نہ ہو برہم جو بوسہ بے اجازت لے لیا میں نےچلو جانے دو بیتابی میں ایسا ہو ہی جاتا ہےJalal Lakhnavi (1832–1909)
  28. کوئی کیسا ہی ثابت ہو طبیعت آ ہی جاتی ہےخدا جانے یہ کیا آفت ہے آفت آ ہی جاتی ہےQalaq Meerathi (1835–1880)
  29. محبت وہ ہے جس میں کچھ کسی سے ہو نہیں سکتاجو ہو سکتا ہے وہ بھی آدمی سے ہو نہیں سکتاQalaq Meerathi (1835–1880)
  30. پڑا ہے دیر و کعبہ میں یہ کیسا غل خدا جانےکہ وہ پردہ نشیں باہر نہ آ جانے نہ جا جانےQalaq Meerathi (1835–1880)
  31. ہم اس کوچے میں اٹھنے کے لیے بیٹھے ہیں مدت سےمگر کچھ کچھ سہارا ہے ابھی بے دست و پائی کاQalaq Meerathi (1835–1880)
  32. بتوں سے بچ کے چلنے پر بھی آفت آ ہی جاتی ہےیہ کافر وہ قیامت ہیں طبیعت آ ہی جاتی ہےZaheer Dehlvi (1835–1911)
  33. جہاں میں کون کہہ سکتا ہے تم کو بے وفا تم ہویہ تھوڑی وضع داری ہے کہ دشمن آشنا تم ہوZaheer Dehlvi (1835–1911)
  34. یہ سب کہنے کی باتیں ہیں ہم ان کو چھوڑ بیٹھے ہیںجب آنکھیں چار ہوتی ہیں مروت آ ہی جاتی ہےZaheer Dehlvi (1835–1911)
  35. پھٹا پڑتا ہے جوبن اور جوش نوجوانی ہےوہ اب تو خودبخود جامے سے باہر ہوتے جاتے ہیںZaheer Dehlvi (1835–1911)
  36. مرادیں کوئی پاتا ہے کسی کی جان جاتی ہےہزاروں دیکھنے والے تری چتون کے بیٹھے ہیںZaheer Dehlvi (1835–1911)
  37. یہاں دیکھوں وہاں دیکھوں اسے دیکھوں اسے دیکھوںتمہاری خود نمائی نے مجھے ڈالا ہے حیرت میںZaheer Dehlvi (1835–1911)
  38. نتیجہ کیوں کر اچھا ہو نہ ہو جب تک عمل اچھانہیں بویا ہے تخم اچھا تو کب پاؤ گے پھل اچھاIsmail Meeruthi (1844–1917)
  39. چھڑا ہے راگ بھنورے کا ہوا کی ہے نئی دھن بھیغضب ہے سال کے بارہ مہینوں میں یہ پھاگن بھیAkbar Allahabadi (1846–1921)
  40. حرم کیا دیر کیا دونوں یہ ویراں ہوتے جاتے ہیںتمہارے معتقد گبرو مسلماں ہوتے جاتے ہیںAkbar Allahabadi (1846–1921)
  41. حسینوں کے گلے سے لگتی ہے زنجیر سونے کینظر آتی ہے کیا چمکی ہوئی تقدیر سونے کیAkbar Allahabadi (1846–1921)
  42. حیا سے سر جھکا لینا ادا سے مسکرا دیناحسینوں کو بھی کتنا سہل ہے بجلی گرا دیناAkbar Allahabadi (1846–1921)
  43. خودی گم کر چکا ہوں اب خوشی و غم سے کیا مطلبتعلق ہوش سے چھوڑا تو اب عالم سے کیا مطلبAkbar Allahabadi (1846–1921)
  44. خوشی کیا ہو جو میری بات وہ بت مان جاتا ہےمزا تو بے حد آتا ہے مگر ایمان جاتا ہےAkbar Allahabadi (1846–1921)
  45. دل زخمی سے خوں اے ہم نشیں کچھ کم نہیں نکلاتڑپنا تھا مگر قسمت میں لکھا دم نہیں نکلاAkbar Allahabadi (1846–1921)
  46. دل مایوس میں وہ شورشیں برپا نہیں ہوتیںامیدیں اس قدر ٹوٹیں کہ اب پیدا نہیں ہوتیںAkbar Allahabadi (1846–1921)
  47. زباں سے بے تعلق دل کو بزم یار میں دیکھاتعجب خیز ضبط اس محرم اسرار میں دیکھاAkbar Allahabadi (1846–1921)
  48. سکون قلب کی دولت کہاں دنیائے فانی میںبس اک غفلت سی ہو جاتی ہے اور وہ بھی جوانی میںAkbar Allahabadi (1846–1921)
  49. طریق عشق میں مجھ کو کوئی کامل نہیں ملتاگئے فرہاد و مجنوں اب کسی سے دل نہیں ملتاAkbar Allahabadi (1846–1921)
  50. عبث اس زندگی پر غافلوں کا فخر کرنا ہےیہ جینا کوئی جینا ہے کہ جس کے ساتھ مرنا ہےAkbar Allahabadi (1846–1921)