غضب ہے دیکھنے میں اچھی صورت آ ہی جاتی ہے

Imdad Ali Bahr (1810–1878)

غضب ہے دیکھنے میں اچھی صورت آ ہی جاتی ہے

نہیں روکے سے دل رکتا طبیعت آ ہی جاتی ہے

بھرا ہے دل ہمارا دوستوں کی بے وفائی سے

کہاں تک ضبط باتوں میں شکایت آ ہی جاتی ہے

پڑے گا تیرے جی میں شک نہ سن غماز کی باتیں

ہزار آئینہ ہو دل پر کدورت آ ہی جاتی ہے

یہ کیا معلوم تھا یہ عشق سودائی بنائے گا

کہیں ٹلتی ہے آنے والی آفت آ ہی جاتی ہے

طلائی رنگ پر کیوں کر نہ ان لوگوں کو غرا ہو

یہ زر وہ چہرہ ہے خاطر میں نخوت آ ہی جاتی ہے

جنون عشق میں ہر چند کچھ غیرت نہیں لیکن

جو کوئی تان کرتا ہے حمیت آ ہی جاتی ہے

عجب روداد ہے اپنی بیاں کرتے ہیں ہم جس سے

نکل آتے ہیں آنسو اس کو رقت آ ہی جاتی ہے

نکل جائے نہ کیوں کر شہر سے مجنوں بیاباں کو

بشر کو اپنی عریانی سے غیرت آ ہی جاتی ہے

ہنسی اچھی نہیں دیکھو تمیز اس میں نہیں رہتی

کہ منہ لگ چلنے میں بوسے کی نوبت آ ہی جاتی ہے

لچکتے ہی کمر زلف رسا کی جھونک لینے سے

اثر معشوق پن کا ہے نزاکت آ ہی جاتی ہے

بہت اپنے کو شائستہ وہ غیروں میں بناتے ہیں

طبیعت میں جو گرمی ہے شرارت آ ہی جاتی ہے

کہاں تک نیک صحبت کا اثر ہوگا نہ انساں کو

ملے تانبا جو سونے سے تو رنگت آ ہی جاتی ہے

خدا صورت نہ دکھلائے مجھے آتش عذاروں کی

ہزار ان سے ہے دل ٹھنڈا حرارت آ ہی جاتی ہے

دعائے مغفرت جب مانگتے ہیں اس سے رو رو کر

برابر جوش میں خالق کی رحمت آ ہی جاتی ہے

کوئی محبوب اس کی جان کا سائل جو ہوتا ہے

جھکا لیتا ہے بحرؔ آنکھیں مروت آ ہی جاتی ہے