پڑا ہے دیر و کعبہ میں یہ کیسا غل خدا جانے

Qalaq Meerathi (1835–1880)

پڑا ہے دیر و کعبہ میں یہ کیسا غل خدا جانے

کہ وہ پردہ نشیں باہر نہ آ جانے نہ جا جانے