سکون قلب کی دولت کہاں دنیائے فانی میں
Akbar Allahabadi (1846–1921)سکون قلب کی دولت کہاں دنیائے فانی میں
بس اک غفلت سی ہو جاتی ہے اور وہ بھی جوانی میں
تری پاکیزہ صورت کر رہی ہے حسن زن پیدا
مگر آنکھوں کی مستی ڈالتی ہے بد گمانی میں
حباب اپنی خودی سے بس یہی کہتا ہوا گزرا
تماشہ تھا ہوا نے اک گرہ دے دی تھی پانی میں
کمر کا کیا ہوں عاشق کھل گئی زلف دراز ان کی
کمر خود پڑ گئی ہے اک بلائے آسمانی میں
اسی صورت میں دل کش خوبیٔ الفاظ ہوتی ہے
کہ حسن یار کا پیدا کرے جلوہ معانی میں
ادائے شکر کر کے احتراز اولیٰ ہے اے اکبرؔ
ہزاروں آفتیں شامل ہیں ان کی مہربانی میں