بتوں سے بچ کے چلنے پر بھی آفت آ ہی جاتی ہے

Zaheer Dehlvi (1835–1911)

بتوں سے بچ کے چلنے پر بھی آفت آ ہی جاتی ہے

یہ کافر وہ قیامت ہیں طبیعت آ ہی جاتی ہے

یہ سب کہنے کی باتیں ہیں ہم ان کو چھوڑ بیٹھیں ہیں

جب آنکھیں چار ہوتی ہیں مروت آ ہی جاتی ہے

وہ اپنی شوخیوں سے کوئی اب تک بعض آتے ہیں

ہمیشہ کچھ نہ کچھ دل میں شرارت آ ہی جاتی ہے

ہمیشہ عہد ہوتے ہیں نہیں ملنے کے اب ان سے

وہ جب آ کر لپٹتے ہیں محبت آ ہی جاتی ہے

کہیں آرام سے دو دن فلک رہنے نہیں دیتا

ہمیشہ اک نہ اک سر پر مصیبت آ ہی جاتی ہے

محبت دل میں دشمن کی بھی اپنا رنگ لاتی ہے

وہ کتنے بے مروت ہوں مروت آ ہی جاتی ہے

ظہیرؔ خستہ جاں شب سو رہا کچھ کھا کے سنتے ہیں

تعجب کیا ہے انساں کو حمیت آ ہی جاتی ہے