چھڑا ہے راگ بھنورے کا ہوا کی ہے نئی دھن بھی
Akbar Allahabadi (1846–1921)چھڑا ہے راگ بھنورے کا ہوا کی ہے نئی دھن بھی
غضب ہے سال کے بارہ مہینوں میں یہ پھاگن بھی
یہ رنگ حسن گل یہ نغمۂ مستانۂ بلبل
اشارہ کرتی ہے فطرت ادھر آ دیکھ بھی سن بھی
بڑے درشن تمہارے ہو گئے راجہ کی سیوا سے
مگر من کا پنپنا چاہتے ہو تو کرو پن بھی
ہوئے روشن یہ معنی چاند کیوں شاعر کو پیارا ہے
کمال اس میں یہ ہے عارض بھی ہے ابرو بھی ناخن بھی