عبث اس زندگی پر غافلوں کا فخر کرنا ہے
Akbar Allahabadi (1846–1921)عبث اس زندگی پر غافلوں کا فخر کرنا ہے
یہ جینا کوئی جینا ہے کہ جس کے ساتھ مرنا ہے
جو مستقبل کے عاشق ہیں انہیں الجھن مبارک ہو
ہمیں تو صرف اب گزرا زمانہ یاد کرنا ہے
گل پژمردہ سے غنچے کو ہمدردی نہیں ممکن
ابھی تو اس کو کھلنا ہے ابھی اس کو سنورنا ہے
مرا دل مجھ سے کہتا ہے مرے سینہ میں اے اکبرؔ
تعجب ہے کہ رہنا سہل ہے مشکل ٹھہرنا ہے
خدا جانے وہ کیا سمجھے کہ بگڑے اس قدر مجھ پر
کہا تھا میں نے اتنا ہی مجھے کچھ عرض کرنا ہے