خودی گم کر چکا ہوں اب خوشی و غم سے کیا مطلب

Akbar Allahabadi (1846–1921)

خودی گم کر چکا ہوں اب خوشی و غم سے کیا مطلب

تعلق ہوش سے چھوڑا تو اب عالم سے کیا مطلب

قناعت جس کو ہے وہ رزق ما یحتاج پر خوش ہے

سمجھ جس کو ہے اس کو بحث بیش و کم سے کیا مطلب

جسے مرنا نہ ہو وہ حشر تک کی فکر میں الجھے

بدلتی ہے اگر دنیا تو بدلے ہم سے کیا مطلب

مری فطرت میں مستی ہے حقیقت بیں ہے دل میرا

مجھے ساقی کی کیا حاجت ہے جام و جم سے کیا مطلب

خود اپنی ریش میں الجھے ہوئے ہیں حضرت واعظ

بھلا ان کو بتوں کے گیسوئے پر خم سے کیا مطلب

نئی تعلیم کو کیا واسطہ ہے آدمیت سے

جناب ڈارون کو حضرت آدم سے کیا مطلب

صدائے سرمدی سے مست رہتا ہوں سدا اکبرؔ

مجھے نغموں کی کیا پروا مجھے سرگم سے کیا مطلب