Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download →

Poetry

Hazaj Musamman Akhrab Makfuf Mahzuf

ہزج مثمن اخرب مکفوف محذوف
Poet
Meter
Clear
  1. تھی ظرف وضو میں کوئی شے پی گئے کیا آپاے شیخ یہاں کون ہے میں چور ہوں یا آپRiyaz Khairabadi (1853–1934)
  2. دشمن کی طرف ہو کے نکلنے نہیں دیتےہم کو وہ بری راہ بھی چلنے نہیں دیتےRiyaz Khairabadi (1853–1934)
  3. فریاد جنوں اور ہے بلبل کی فغاں اورصحرا کی زباں اور ہے گلشن کی زباں اورRiyaz Khairabadi (1853–1934)
  4. مر کر ارے واعظ کوئی زندہ نہیں ہوتاوہ حشر مزے کا ہے جو برپا نہیں ہوتاRiyaz Khairabadi (1853–1934)
  5. وعدہ کبھی سچا کوئی کرتا ہی نہیں ہےاندیشۂ فردا تو گزرتا ہی نہیں ہےRiyaz Khairabadi (1853–1934)
  6. وہ کون ہے دنیا میں جسے غم نہیں ہوتاکس گھر میں خوشی ہوتی ہے ماتم نہیں ہوتاRiyaz Khairabadi (1853–1934)
  7. اطوار ترے اہل زمیں سے نہیں ملتےانداز کسی اور حسیں سے نہیں ملتےMirza Hadi Ruswa (1857–1931)
  8. آرام کسے دیتی ہے ایام کی گردشسیدھا کوئی ہلچل میں کھڑا ہو نہیں سکتاIbrat Gorakhpuri (1859–1918)
  9. وہ دل ہے مرا ہو نہیں سکتا جو شگفتہوہ باغ مرا ہے جو ہرا ہو نہیں سکتاIbrat Gorakhpuri (1859–1918)
  10. اٹھے تری محفل سے تو کس کام کے اٹھےدل تھام کے بیٹھے تھے جگر تھام کے اٹھےBekhud Dehlvi (1863–1955)
  11. بیتاب رہیں ہجر میں کچھ دل تو نہیں ہمتڑپیں جو تجھے دیکھ کے بسمل تو نہیں ہمBekhud Dehlvi (1863–1955)
  12. پچھتاؤگے پھر ہم سے شرارت نہیں اچھییہ شوخ نگاہی دم رخصت نہیں اچھیBekhud Dehlvi (1863–1955)
  13. دونوں ہی کی جانب سے ہو گر عہد وفا ہوچاہت کا مزا جب ہے کہ تم بھی مجھے چاہوBekhud Dehlvi (1863–1955)
  14. عاشق ہیں مگر عشق نمایاں نہیں رکھتےہم دل کی طرح چاک گریباں نہیں رکھتےBekhud Dehlvi (1863–1955)
  15. معشوق ہمیں بات کا پورا نہیں ملتادل جس سے ملائیں کوئی ایسا نہیں ملتاBekhud Dehlvi (1863–1955)
  16. وہ اور تسلی مجھے دیں ان کی بلا دےجاتے ہوئے فرما تو گئے صبر خدا دےBekhud Dehlvi (1863–1955)
  17. وہ دیکھتے جاتے ہیں کنکھیوں سے ادھر بھیچلتا ہوا جادو ہے محبت کی نظر بھیBekhud Dehlvi (1863–1955)
  18. ہیں نکہت گل باغ میں اے باد صبا ہمدم بھر میں نمودار ہیں دم بھر میں فنا ہمBekhud Dehlvi (1863–1955)
  19. جذبہ میں سلوک اور نفی میں ہے جو اثباتاے سالک مجذوب یہ ہے سیر مقاماتPandit Jawahar Nath Saqi (1864–1916)
  20. آنا ہو تو آ جاؤ بہانا نہیں اچھاہر روز کا مجھ کو یہ ستانا نہیں اچھاMaharaja Sir Kishan Parashad Shad (1864–1940)
  21. مضمر ہے بقا ہستئ عالم کی فنا میںاک جلوۂ وحدت بھی ہے کثرت کی فضا میںMaharaja Sir Kishan Parashad Shad (1864–1940)
  22. موجود جو ساقی ہے تو پھر کیا نہیں ملتاہم اس کے ہیں کیا ساغر و مینا نہیں ملتاMaharaja Sir Kishan Parashad Shad (1864–1940)
  23. چاہت کی نظر آپ سے ڈالی بھی گئی ہےحسرت کسی عاشق کی نکالی بھی گئی ہےMuztar Khairabadi (1865–1927)
  24. دل لے کے حسینوں نے یہ دستور نکالادل جس کا لیا اس کو بہت دور نکالاMuztar Khairabadi (1865–1927)
  25. اچھی کہی دل میں نے لگایا ہے کہیں اوریہ جب ہو کہ تم سا ہو زمانے میں کہیں اورJaleel Manikpuri (1866–1946)
  26. باعث کوئی ایسا ہے کہ میں کچھ نہیں کہتاورنہ مجھے سودا ہے کہ میں کچھ نہیں کہتاBrij Mohan Dattatreya Kaifi (1866–1955)
  27. اب کوئی ترا مثل نہیں ناز و ادا میںانداز میں شوخی میں شرارت میں حیا میںParveen Umm-e-Mushtaq (b. 1866)
  28. پوشاک نہ تو پہنیو اے سرو رواں سرخہو جائے نہ پرتو سے ترے کون و مکاں سرخParveen Umm-e-Mushtaq (b. 1866)
  29. ہوتی نہ شریعت میں پرستش کبھی ممنوعگر پہلے بھی بت خانوں میں ہوتے صنم ایسےParveen Umm-e-Mushtaq (b. 1866)
  30. کب تک رہے سینہ میں تمنائے مدینہکب تک دل بیتاب کہے ہائے مدینہSaail Dehlvi (1867–1945)
  31. ہوتے ہی جواں ہو گئے پابند حجاب اورگھونگھٹ کا اضافہ ہوا بالائے نقاب اورSaail Dehlvi (1867–1945)
  32. معلوم نہیں کس سے کہانی مری سن لیبھاتا ہی نہیں اب انہیں افسانہ کسی کاSaail Dehlvi (1867–1945)
  33. پتھر سے نہ مارو مجھے دیوانہ سمجھ کرآیا ہوں ادھر کوچۂ جانانہ سمجھ کرHafeez Jaunpuri (1868–1959)
  34. جاؤ بھی جگر کیا ہے جو بیداد کرو گےنالے مرے سن لو گے تو فریاد کرو گےHafeez Jaunpuri (1868–1959)
  35. جب تک کہ طبیعت سے طبیعت نہیں ملتیہوں پیار کی باتیں بھی تو لذت نہیں ملتیHafeez Jaunpuri (1868–1959)
  36. دل ہے تو ترے وصل کے ارمان بہت ہیںیہ گھر جو سلامت ہے تو مہمان بہت ہےHafeez Jaunpuri (1868–1959)
  37. ہو ترک کسی سے نہ ملاقات کسی کییا رب نہ بگڑ جائے بنی بات کسی کیHafeez Jaunpuri (1868–1959)
  38. مژگاں ہیں غضب ابروے خم دار کے آگےیہ تیر برس پڑتے ہیں تلوار کے آگےHafeez Jaunpuri (1868–1959)
  39. کچھ میں نے کہی ہے نہ ابھی اس نے سنی ہےچتون ہے کہ تلوار لئے سر پہ کھڑی ہےArzoo Lakhnavi (1873–1951)
  40. ہاں دید کا اقرار اگر ہو تو ابھی ہواور یوں ہو کہ دیدار اگر ہو تو ابھی ہوArzoo Lakhnavi (1873–1951)
  41. ہیں دیس بدیس ایک گزر اور بسر میںبے آس کو کب چین ملا ہے کسی گھر میںArzoo Lakhnavi (1873–1951)
  42. سخنورانِ عہد سے خطابZafar Ali Khan (1873–1956)
  43. سوراجZafar Ali Khan (1873–1956)
  44. آسان حقیقی ہے نہ کچھ سہل مجازیمعلوم ہوئی راہ محبت کی درازیHasrat Mohani (1875–1951)
  45. اس بت کے پجاری ہیں مسلمان ہزاروںبگڑے ہیں اسی کفر میں ایمان ہزاروںHasrat Mohani (1875–1951)
  46. چاہت مری چاہت ہی نہیں آپ کے نزدیککچھ میری حقیقت ہی نہیں آپ کے نزدیکHasrat Mohani (1875–1951)
  47. محروم طرب ہے دل دلگیر ابھی تکباقی ہے ترے عشق کی تاثیر ابھی تکHasrat Mohani (1875–1951)
  48. نظارۂ پیہم کا صلا میرے لیے ہےہر سمت وہ رخ جلوہ نما میرے لیے ہےHasrat Mohani (1875–1951)
  49. پھر اور تغافل کا سبب کیا ہے خدایامیں یاد نہ آؤں انہیں ممکن ہی نہیں ہےHasrat Mohani (1875–1951)
  50. ہم جور پرستوں پہ گماں ترک وفا کایہ وہم کہیں تم کو گنہ گار نہ کر دےHasrat Mohani (1875–1951)