کب تک رہے سینہ میں تمنائے مدینہ
Saail Dehlvi (1867–1945)کب تک رہے سینہ میں تمنائے مدینہ
کب تک دل بیتاب کہے ہائے مدینہ
مر جاوں مدینے میں، مدینے میں لحد ہو
لے جاوں لحد میں، میں تمنائے مدینہ
آ بیٹھو مرے دل میں کہ دل عرش بریں ہے
تم جاہو تو سینہ مرا بن جائے مدینہ
یا رب مرے دل میں رہے یثرب کی تمنا
یا رب مرے سر میں رہے سودائے مدینہ
اے چشم تصور تجھے اتنا ہی بہت ہے
گھربیٹھے نظر میں مری آجائے مدینہ
سائل کی تمنا ہے شب و رو الہی
ہر دم مرے دل میں رہے سودائے مدینہ