وعدہ کبھی سچا کوئی کرتا ہی نہیں ہے

Riyaz Khairabadi (1853–1934)

وعدہ کبھی سچا کوئی کرتا ہی نہیں ہے

اندیشۂ فردا تو گزرتا ہی نہیں ہے

دامن کی شکن دور سے لیتی ہے بلائیں

بل یار کے ابرو کا اترتا ہی نہیں ہے

دل سے تو مرے سینے کے پھر داغ ہی اچھے

کم بخت ابھارے سے ابھرتا ہی نہیں ہے

سب بھول گئے اس کو ترے عہد ستم میں

اب شکوۂ گردوں کوئی کرتا ہی نہیں ہے

جو جانتے ہیں بڑھ کے نشیمن سے قفس کو

پر ایسوں کے صیاد کترتا ہی نہیں ہے

کیا چیز ہے اے بادہ کشو موسم گل بھی

اس دور میں توبہ کوئی کرتا ہی نہیں ہے

اپنے ستم و جور اسے لاکھ سکھاؤ

درباں سے تمہارے کوئی ڈرتا ہی نہیں ہے

یوں پسنے کو دل لاکھ پسیں برگ حنا پر

وہ ہاتھ کبھی خون میں بھرتا ہی نہیں ہے

کیا آ گئی اس میں دل بیتاب کی الجھن

گیسو ہے کسی کا کہ سنورتا ہی نہیں ہے

سمجھا ہے اثر کوئی بلا آہ کو میری

ڈرتا ہے وہ گردوں سے اترتا ہی نہیں ہے

جب تک کوئی آئے نہ لب بام نکھر کر

رنگ شفق شام نکھرتا ہی نہیں ہے

معشوقوں سے تو بات وہ کرتا ہی نہیں ہے