وہ دل ہے مرا ہو نہیں سکتا جو شگفتہ

Ibrat Gorakhpuri (1859–1918)

وہ دل ہے مرا ہو نہیں سکتا جو شگفتہ

وہ باغ مرا ہے جو ہرا ہو نہیں سکتا