آنا ہو تو آ جاؤ بہانا نہیں اچھا
Maharaja Sir Kishan Parashad Shad (1864–1940)آنا ہو تو آ جاؤ بہانا نہیں اچھا
ہر روز کا مجھ کو یہ ستانا نہیں اچھا
پیری میں سمجھ آئی جوانی گئی افسوس
معلوم ہوا دل کا لگانا نہیں اچھا
اک درد رسیدہ کی ذرا آنکھ لگی ہے
اے مرغ سحر خیز جگانا نہیں اچھا
قشقہ جسے کہتے ہیں وہ ہے داغ غلامی
اے برہمن اس کا تو لگانا نہیں اچھا
جو کہنا ہو خلوت میں بلا کر مجھے کہہ لو
باتیں یہ سر بزم سنانا نہیں اچھا
بے کار کی رنجش ہے لپٹ جاؤ گلے سے
عاشق ہوں مجھے اتنا ستانا نہیں اچھا
ہنگامۂ محشر مرے شکوؤں میں نہاں ہے
ہے ضبط نفس شرط زمانہ نہیں اچھا
مل جائیے ملنا ہے اگر شادؔ سے منظور
ہر روز یہ حیلہ یہ بہانا نہیں اچھا