موجود جو ساقی ہے تو پھر کیا نہیں ملتا
Maharaja Sir Kishan Parashad Shad (1864–1940)موجود جو ساقی ہے تو پھر کیا نہیں ملتا
ہم اس کے ہیں کیا ساغر و مینا نہیں ملتا
یہ اشک کا قطرہ ہے مرے دیدۂ تر کا
ایسا تو کبھی گوہر یکتا نہیں ملتا
کیا خاک نظر آئے سر طور بھلا اب
اس آنکھ کا اب کوئی بھی موسیٰ نہیں ملتا
کیوں چھانتے ہیں خاک بیابان کی عاشق
مجنوں کی طرح ناقۂ لیلیٰ نہیں ملتا
اپنے کو اگر ہے تو خدا پر ہے بھروسہ
دنیا میں کوئی اور سہارا نہیں ملتا
موسیٰ ہی رہے ہائے نہ وہ طور ہے باقی
اے آنکھ کہیں اب وہ تجلیٰ نہیں ملتا
اس عالم تکویں میں عیاں جلوے ہیں لیکن
اب کوئی انہیں دیکھنے والا نہیں ملتا
ہر ذرے میں ہے نور چمکتا ہوا اس کا
لیکن کوئی اب محو تماشا نہیں ملتا
نیت ہے اگر خیر تو پھر اس کو کمی کیا
انسان کو کیا رتبۂ عالی نہیں ملتا
مانگے جو بہ اخلاص کوئی اپنے خدا سے
کیا چیز نہیں دیتا وہ کیا کیا نہیں ملتا
اے شادؔ اگر درد محبت نہیں دل میں
یہ بات رہے یاد مسیحا نہیں ملتا