Poetry
Hazaj Musamman Akhrab Makfuf Mahzuf
ہزج مثمن اخرب مکفوف محذوف- ان آنکھوں سے پہلے بھی کہیں بات ہوئی ہےسوچوں گا کہاں تم سے ملاقات ہوئی ہےRaees Akhtar (b. 1935)
- اس بات کو بھولیں نہ مسلمان خدا کےکافر بھی حقیقت میں ہیں انسان خدا کےDarshan Dayal Parwaz (b. 1935)
- خنجر نے ہی چھوڑا تھا نہ مرنے میں گماں اورکیوں لائے مرے قتل کو وہ تیر و کماں اورT N Raaz (b. 1935)
- کیا خوب ہے جنت کا تماشا مرے آگےبیوی کو برا کہتا ہے سالا مرے آگےT N Raaz (b. 1935)
- بے تاب ہیں اور عشق کا دعویٰ نہیں ہم کوآوارہ ہیں اور دشت کا سودا نہیں ہم کوShahryar (1936–2012)
- جو چاہتی دنیا ہے وہ مجھ سے نہیں ہوگاسمجھوتا کوئی خواب کے بدلے نہیں ہوگاShahryar (1936–2012)
- سینے میں جلن آنکھوں میں طوفان سا کیوں ہےاس شہر میں ہر شخص پریشان سا کیوں ہےShahryar (1936–2012)
- شکوہ کوئی دریا کی روانی سے نہیں ہےرشتہ ہی مری پیاس کا پانی سے نہیں ہےShahryar (1936–2012)
- یہ جب ہے کہ اک خواب سے رشتہ ہے ہمارادن ڈھلتے ہی دل ڈوبنے لگتا ہے ہماراShahryar (1936–2012)
- یہ قافلے یادوں کے کہیں کھو گئے ہوتےاک پل بھی اگر بھول سے ہم سو گئے ہوتےShahryar (1936–2012)
- یہ کیا ہے محبت میں تو ایسا نہیں ہوتامیں تجھ سے جدا ہو کے بھی تنہا نہیں ہوتاShahryar (1936–2012)
- آدھوں کی طرف سے کبھی پونوں کی طرف سےآوازے کسے جاتے ہیں بونوں کی طرف سےAdil Mansuri (1936–2008)
- جو چیز تھی کمرے میں وہ بے ربط پڑی تھیتنہائیٔ شب بند قبا کھول رہی تھیAdil Mansuri (1936–2008)
- اب کرب کے طوفاں سے گزرنا ہی پڑے گاسورج کو سمندر میں اترنا ہی پڑے گاEjaz Rahmani (1936–2019)
- تالاب تو برسات میں ہو جاتے ہیں کم ظرفباہر کبھی آپے سے سمندر نہیں ہوتاEjaz Rahmani (1936–2019)
- رہ جاتی ہے ہر چیز جہاں سائے میں ڈھل کروہ دیس بھی اک بار ذرا دیکھیے چل کرUrfi Aafaqi (b. 1936)
- وہ دھیان کی راہوں میں جہاں ہم کو ملے گابس ایک چھلاوے سا کوئی دم کو ملے گاUrfi Aafaqi (b. 1936)
- وہ کون ہے دنیا میں جو مجبور نہیں ہےانساں کو کسی بات کا مقدور نہیں ہےNaaz Muradabadi (b. 1936)
- کیا چیز ہے عذر لب اظہار کا سایہاقرار کا سایہ کبھی انکار کا سایہQaisar Siddiqi (1937–2018)
- رنگیں نظراں لالہ رخاں یوں تو بہت ہیںمسحور نگاہ و دل و جاں یوں تو بہت ہیںGhani Ahmad Ghani (b. 1937)
- انسان سے انسان کو نفرت نہیں اچھیاحسان جتانے کی بھی عادت نہیں اچھیYaseen Barari (b. 1937)
- انسان میں حیوان یہاں بھی ہے وہاں بھیاللہ نگہبان یہاں بھی ہے وہاں بھیNida Fazli (1938–2016)
- بے نام سا یہ درد ٹھہر کیوں نہیں جاتاجو بیت گیا ہے وہ گزر کیوں نہیں جاتاNida Fazli (1938–2016)
- پھر گویا ہوئی شام پرندوں کی زبانیآؤ سنیں مٹی سے ہی مٹی کی کہانیNida Fazli (1938–2016)
- ٹھہرے جو کہیں آنکھ تماشا نظر آئےسورج میں دھواں چاند میں صحرا نظر آئےNida Fazli (1938–2016)
- دل میں نہ ہو جرأت تو محبت نہیں ملتیخیرات میں اتنی بڑی دولت نہیں ملتیNida Fazli (1938–2016)
- بیٹھے ہو سر راہ گزر کیوں نہیں جاتےتم لوگ تو گھر والے ہو گھر کیوں نہیں جاتےPandit Vidya Rattan Asi (1938–2019)
- غافل ہوں تری یاد سے ایسا تو نہیں ہےہر وقت مرے دل میں تری یاد مکیں ہےPandit Vidya Rattan Asi (1938–2019)
- ناسازیٔ حالات نے دل توڑ دیا ہےدنیا کی ہر اک بات نے دل توڑ دیا ہےPandit Vidya Rattan Asi (1938–2019)
- اے ہم نفسو! شب ہے گراں جاگتے رہناہر لحظہ ہے یاں خطرۂ جاں جاگتے رہناOwais Ahmad Dauran (b. 1938)
- ہر سانس کو مہکائیے اب دیر نہ کیجےاک پھول سا کھل جائیے اب دیر نہ کیجےOwais Ahmad Dauran (b. 1938)
- یہ زیست کہ ہے پھول سی مٹ جائے بلا سےگلچیں سے مگر بر سر پیکار ہی رہئےOwais Ahmad Dauran (b. 1938)
- اترے تو کئی بار صحیفے مرے گھر میںملتے ہیں مگر صرف جریدے مرے گھر میںZaheer Ghazipuri (b. 1938)
- اب تو ہو کسی رنگ میں ظاہر تو مجھے کیاٹھہرے ترے گھر کوئی مسافر تو مجھے کیاObaidullah Aleem (1939–1998)
- چہرہ ہوا میں اور مری تصویر ہوئے سبمیں لفظ ہوا مجھ میں ہی زنجیر ہوئے سبObaidullah Aleem (1939–1998)
- پاگل سی ہوا ڈھلتی ہوئی شام سمندرایسے ہی کہیں لے نہ ترا نام سمندرGhayas Mateen (b. 1939)
- کیا اس کا گلہ یورش تہمات بہت ہےزندہ ہیں جو ہم لوگ یہی بات بہت ہےEhtisham Bachhrayuni (b. 1939)
- زندہ ہوں کہ مرنا مری قسمت میں لکھا ہےہر روز گناہوں کی سزا کاٹ رہا ہوںTabish Siddiqui (b. 1939)
- یہ حال مرا میری محبت کا صلہ ہےجو اپنے ہی دامن سے بجھا ہو وہ دیا ہوںTabish Siddiqui (b. 1939)
- تحریر سے ورنہ مری کیا ہو نہیں سکتااک تو ہے جو لفظوں میں ادا ہو نہیں سکتاWaseem Barelvi (b. 1940)
- تم ساتھ نہیں ہو تو کچھ اچھا نہیں لگتااس شہر میں کیا ہے جو ادھورا نہیں لگتاWaseem Barelvi (b. 1940)
- دکھ اپنا اگر ہم کو بتانا نہیں آتاتم کو بھی تو اندازہ لگانا نہیں آتاWaseem Barelvi (b. 1940)
- کیا دکھ ہے سمندر کو بتا بھی نہیں سکتاآنسو کی طرح آنکھ تک آ بھی نہیں سکتاWaseem Barelvi (b. 1940)
- میں یہ نہیں کہتا کہ مرا سر نہ ملے گالیکن مری آنکھوں میں تجھے ڈر نہ ملے گاWaseem Barelvi (b. 1940)
- تم میری طرف دیکھنا چھوڑو تو بتاؤںہر شخص تمہاری ہی طرف دیکھ رہا ہےWaseem Barelvi (b. 1940)
- کچھ ہے کہ جو گھر دے نہیں پاتا ہے کسی کوورنہ کوئی ایسے تو سفر میں نہیں رہتاWaseem Barelvi (b. 1940)
- ہم یہ تو نہیں کہتے کہ ہم تجھ سے بڑے ہیںلیکن یہ بہت ہے کہ ترے ساتھ کھڑے ہیںWaseem Barelvi (b. 1940)
- صحرا کا سفر تھا تو شجر کیوں نہیں آیامانگی تھیں دعائیں تو اثر کیوں نہیں آیاzafar iqbal zafar (b. 1940)
- تہذیب ہی باقی ہے نہ اب شرم و حیا کچھکس درجہ اب انسان یہ بے باک ہوا ہےzafar iqbal zafar (b. 1940)
- افکار کے سانچے میں ڈھلی تازہ غزل ہےیا وقت کے پیچیدہ سوالات کا حل ہےSaba Naqvi (b. 1940)