Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download →

Poetry

Muzari' Musamman Akhrab Makfuf Mahzuf

مضارع مثمن اخرب مکفوف محذوف
Poet
Meter
Clear
  1. ٹوٹی نشست دل تو محبت کی آبروواپس اسی مقام پہ لائی نہ جا سکیIdris Azad
  2. وہ شوق ربط نو میں کھڑی جھولتی رہیمیں شاخ اعتبار سے پھل کی طرح گراIdris Azad
  3. رہتا ہے میرے دل میں ترا نور رات دناک شعلہ برق زن ہے سر طور رات دنکشن کمار وقار
  4. قابو میں دل ہو تو کہیں شیدا نہ کیجئےاپنے کو اپنے ہاتھ سے رسوا نہ کیجئےکشن کمار وقار
  5. اللہ کے بھی گھر سے ہے کوئے بتاں عزیزکعبہ سے بھی زیادہ ہے ہندوستاں عزیزرند لکھنوی
  6. خاموش داب عشق کو بلبل لیے ہوئےگل مست ہے چمن میں پیالہ پیے ہوئےرند لکھنوی
  7. کیوں کر نہ لائے رنگ گلستاں نئے نئےگاتے ہیں راگ مرغ خوش الحاں نئے نئےرند لکھنوی
  8. رسوائے عشق میں ترا شیدا کہیں جسےعشاق میں مثال ہے رسوا کہیں جسےساحر دہلوی
  9. اب غیر سے بھی تیری ملاقات رہ گئیسچ ہے کہ وقت جاتا رہا بات رہ گئیمیر اثر
  10. اب کون بات رہ گئی یہ بات بھی گئییعنی کبھی کبھی کی ملاقات بھی گئیمبارک عظیم آبادی
  11. بکھری ہوئی ہے یوں مری وحشت کی داستاںدامن کدھر کدھر ہے گریباں کہاں کہاںمبارک عظیم آبادی
  12. چتون جو قہر کی ہے تو تیور جلال کےمطلب یہ ہے کہ رکھ دے کلیجہ نکال کےمبارک عظیم آبادی
  13. سمجھائیں کس طرح دل ناکردہ کار کویہ دوستی سمجھتا ہے دشمن کے پیار کومبارک عظیم آبادی
  14. ناوک کہیں سناں کہیں تلوار کیا کہیںتو ہی بتا تجھے نگۂ یار کیا کہیںمبارک عظیم آبادی
  15. بیگانۂ وفا ترا شیوہ ہی اور ہےاہل وفا کا طور طریقہ ہی اور ہےمبارک عظیم آبادی
  16. اس گل سے کچھ حجاب ہمیں درمیاں نہ تھاجس دن کہ یہ بہار نہ تھی گلستاں نہ تھاانعام اللہ خاں یقین
  17. اچھی نبھی بتان ستم آشنا کے ساتھاب بعد مرگ دیکھیے کیا ہو خدا کے ساتھقربان علی سالک بیگ
  18. اب دل میں تیرے تیر کا پیکاں نہیں رہاکیونکر جیوں کہ زیست کا ساماں نہیں رہاافسر میرٹھی
  19. بھویں چڑھی ہیں اور ہے تیور جھکا ہواکچھ آج بولتا ہے وہ ہم سے رکا ہوامرزا اظفری
  20. تم کھل رہے تھے غیر سے چھاؤں تلے کھڑےہم دست رشک دھوپ میں اپنے ملے کھڑےمرزا اظفری
  21. دیکھ اپنے مائلوں کو کہ ہیں دل جلے پڑےپژمردہ، دل فسردہ در اوپر ڈھلے پڑےمرزا اظفری
  22. تربت پہ وہ جو آئے تو عالم نیا ہواپھولوں میں جان پڑ گئی سبزہ ہرا ہواصفدر مرزا پوری
  23. دیکھا ادھر کسی نے ادھر میں نے آہ کیتڑپا رہی ہے قلب کو بجلی نگاہ کیصفدر مرزا پوری
  24. رکھے ہیں آپ ہاتھ جہاں اب وہاں نہیںہم کیا بتائیں درد کہاں ہے کہاں نہیںصفدر مرزا پوری
  25. کیوں کہہ رہے ہو نزع میں ہم سے خفا نہ ہواس کو فریب دو جو تمہیں جانتا نہ ہوصفدر مرزا پوری
  26. اچھا ہوا کہ دم شب ہجراں نکل گیادشوار تھا یہ کام پر آساں نکل گیازین العابدین خاں عارف
  27. در پہ رہے یہ دیدۂ گریاں تمام عمرلیکن بجھی نہ آتش ہجراں تمام عمرزین العابدین خاں عارف
  28. رخ پر رہی وہ زلف معنبر تمام راتروشن نہ وصل میں ہوا یہ گھر تمام راتزین العابدین خاں عارف
  29. سچ ہے کہ آہ سرد مری بے اثر نہیںپتھر کو جھاڑیے تو نکلتا شرر نہیںزین العابدین خاں عارف
  30. قائل بھلا ہوں نامہ بری میں صبا کے خاکپھرتی ہے وہ بھی گلیوں میں اکثر اڑا کے خاکزین العابدین خاں عارف
  31. کچھ چپ ہیں آئنہ جو وہ ہر بار دیکھ کرکڑھتے ہیں اپنی چشم کو بیمار دیکھ کرزین العابدین خاں عارف
  32. وحشت میں یاد آئے ہے زنجیر دیکھ کرہم بھاگتے تھے زلف گرہ گیر دیکھ کرزین العابدین خاں عارف
  33. ہیں ہم بھی خوب چاہ کا ساماں کیے ہوئےبیٹھے ہیں گھر کو پہلے ہی ویراں کیے ہوئےزین العابدین خاں عارف
  34. کہتا ہے ہر مکیں سے مکاں بولتے رہواس چپ میں بھی ہے جی کا زیاں بولتے رہوباقی صدیقی
  35. پیتم کے دیکھنے کے تماشا کو جائیں چلاپنے پیا کو عشق سوں اپنے رجھائیں چلعلیم اللہ
  36. کیتا کہیں پکار اے غافل بیا بیاپھرتا ہے کیوں تو بھول اپس کا پیا پیاعلیم اللہ
  37. گر عشق ہے تو دیکھنے پیو کو شتاب آلا شک ہو حق کی رہ میں چلا بے حجاب آعلیم اللہ
  38. جب ایک گلعذار کی صحبت میں آ گیاعارض کا رنگ میری طبیعت میں آ گیاR P Shokh
  39. شہروں میں ناچتا ہوا جنگل ہے اور میںصدیوں کے بعد بھی وہی قاتل ہے اور میںR P Shokh
  40. آنسو تھمے جو رخ پہ وہ گیسو بکھر گیاملتے ہی دونوں وقت کے دریا ٹھہر گیامیر کلو عرش
  41. تھا نجم بخت تیرہ مقابل تمام راتآنکھوں تلے پھرا مرے قاتل تمام راتمیر کلو عرش
  42. اس وقت بارے کچھ تو کرم بخشی کیجئےگزرے ہم اور بات سے گالی ہی دیجئےمرزا جواں بخت جہاں دار
  43. جس کو کہ دسترس ہوئی دامان یار تکگلشن میں دہر کے وہی پہنچا بہار تکمرزا جواں بخت جہاں دار
  44. جو کچھ کیا سو ہم نے کیا اپنی چاہ سےاب شکوہ کیجیے نہ کچھ اس رشک ماہ سےمرزا جواں بخت جہاں دار
  45. سنتا نہیں کسو ہی کی وہ یار دیکھناکیجو نہ اس سے حال دل اظہار دیکھنامرزا جواں بخت جہاں دار
  46. قسمت کو اپنے لکھے کے تئیں کون دھو سکےسب ہو سکے ولیک یہ اتنا نہ ہو سکےمرزا جواں بخت جہاں دار
  47. مت بولیو تو اوس سے جہاں دارؔ دیکھناکھینچے ہوئے ہے آج وہ تلوار دیکھنامرزا جواں بخت جہاں دار
  48. جو کچھ کہ تو نے سر پہ مرے دل ربا کیادل ہی وہ جانتا ہے کہوں کیا میں کیا کیامرزا جواں بخت جہاں دار
  49. داغ جنوں دماغ پریشاں میں رہ گیادامن میں خار چاک گریباں میں رہ گیاوزیر علی صبا لکھنؤی
  50. دل ہے غذائے رنج جگر ہے غذائے رنجپیدا کیا ہے ہم کو خدا نے برائے رنجوزیر علی صبا لکھنؤی