Poetry
Muzari' Musamman Akhrab Makfuf Mahzuf
مضارع مثمن اخرب مکفوف محذوف- ٹوٹی نشست دل تو محبت کی آبروواپس اسی مقام پہ لائی نہ جا سکیIdris Azad
- وہ شوق ربط نو میں کھڑی جھولتی رہیمیں شاخ اعتبار سے پھل کی طرح گراIdris Azad
- رہتا ہے میرے دل میں ترا نور رات دناک شعلہ برق زن ہے سر طور رات دنکشن کمار وقار
- قابو میں دل ہو تو کہیں شیدا نہ کیجئےاپنے کو اپنے ہاتھ سے رسوا نہ کیجئےکشن کمار وقار
- اللہ کے بھی گھر سے ہے کوئے بتاں عزیزکعبہ سے بھی زیادہ ہے ہندوستاں عزیزرند لکھنوی
- خاموش داب عشق کو بلبل لیے ہوئےگل مست ہے چمن میں پیالہ پیے ہوئےرند لکھنوی
- کیوں کر نہ لائے رنگ گلستاں نئے نئےگاتے ہیں راگ مرغ خوش الحاں نئے نئےرند لکھنوی
- رسوائے عشق میں ترا شیدا کہیں جسےعشاق میں مثال ہے رسوا کہیں جسےساحر دہلوی
- اب غیر سے بھی تیری ملاقات رہ گئیسچ ہے کہ وقت جاتا رہا بات رہ گئیمیر اثر
- اب کون بات رہ گئی یہ بات بھی گئییعنی کبھی کبھی کی ملاقات بھی گئیمبارک عظیم آبادی
- بکھری ہوئی ہے یوں مری وحشت کی داستاںدامن کدھر کدھر ہے گریباں کہاں کہاںمبارک عظیم آبادی
- چتون جو قہر کی ہے تو تیور جلال کےمطلب یہ ہے کہ رکھ دے کلیجہ نکال کےمبارک عظیم آبادی
- سمجھائیں کس طرح دل ناکردہ کار کویہ دوستی سمجھتا ہے دشمن کے پیار کومبارک عظیم آبادی
- ناوک کہیں سناں کہیں تلوار کیا کہیںتو ہی بتا تجھے نگۂ یار کیا کہیںمبارک عظیم آبادی
- بیگانۂ وفا ترا شیوہ ہی اور ہےاہل وفا کا طور طریقہ ہی اور ہےمبارک عظیم آبادی
- اس گل سے کچھ حجاب ہمیں درمیاں نہ تھاجس دن کہ یہ بہار نہ تھی گلستاں نہ تھاانعام اللہ خاں یقین
- اچھی نبھی بتان ستم آشنا کے ساتھاب بعد مرگ دیکھیے کیا ہو خدا کے ساتھقربان علی سالک بیگ
- اب دل میں تیرے تیر کا پیکاں نہیں رہاکیونکر جیوں کہ زیست کا ساماں نہیں رہاافسر میرٹھی
- بھویں چڑھی ہیں اور ہے تیور جھکا ہواکچھ آج بولتا ہے وہ ہم سے رکا ہوامرزا اظفری
- تم کھل رہے تھے غیر سے چھاؤں تلے کھڑےہم دست رشک دھوپ میں اپنے ملے کھڑےمرزا اظفری
- دیکھ اپنے مائلوں کو کہ ہیں دل جلے پڑےپژمردہ، دل فسردہ در اوپر ڈھلے پڑےمرزا اظفری
- تربت پہ وہ جو آئے تو عالم نیا ہواپھولوں میں جان پڑ گئی سبزہ ہرا ہواصفدر مرزا پوری
- دیکھا ادھر کسی نے ادھر میں نے آہ کیتڑپا رہی ہے قلب کو بجلی نگاہ کیصفدر مرزا پوری
- رکھے ہیں آپ ہاتھ جہاں اب وہاں نہیںہم کیا بتائیں درد کہاں ہے کہاں نہیںصفدر مرزا پوری
- کیوں کہہ رہے ہو نزع میں ہم سے خفا نہ ہواس کو فریب دو جو تمہیں جانتا نہ ہوصفدر مرزا پوری
- اچھا ہوا کہ دم شب ہجراں نکل گیادشوار تھا یہ کام پر آساں نکل گیازین العابدین خاں عارف
- در پہ رہے یہ دیدۂ گریاں تمام عمرلیکن بجھی نہ آتش ہجراں تمام عمرزین العابدین خاں عارف
- رخ پر رہی وہ زلف معنبر تمام راتروشن نہ وصل میں ہوا یہ گھر تمام راتزین العابدین خاں عارف
- سچ ہے کہ آہ سرد مری بے اثر نہیںپتھر کو جھاڑیے تو نکلتا شرر نہیںزین العابدین خاں عارف
- قائل بھلا ہوں نامہ بری میں صبا کے خاکپھرتی ہے وہ بھی گلیوں میں اکثر اڑا کے خاکزین العابدین خاں عارف
- کچھ چپ ہیں آئنہ جو وہ ہر بار دیکھ کرکڑھتے ہیں اپنی چشم کو بیمار دیکھ کرزین العابدین خاں عارف
- وحشت میں یاد آئے ہے زنجیر دیکھ کرہم بھاگتے تھے زلف گرہ گیر دیکھ کرزین العابدین خاں عارف
- ہیں ہم بھی خوب چاہ کا ساماں کیے ہوئےبیٹھے ہیں گھر کو پہلے ہی ویراں کیے ہوئےزین العابدین خاں عارف
- کہتا ہے ہر مکیں سے مکاں بولتے رہواس چپ میں بھی ہے جی کا زیاں بولتے رہوباقی صدیقی
- پیتم کے دیکھنے کے تماشا کو جائیں چلاپنے پیا کو عشق سوں اپنے رجھائیں چلعلیم اللہ
- کیتا کہیں پکار اے غافل بیا بیاپھرتا ہے کیوں تو بھول اپس کا پیا پیاعلیم اللہ
- گر عشق ہے تو دیکھنے پیو کو شتاب آلا شک ہو حق کی رہ میں چلا بے حجاب آعلیم اللہ
- جب ایک گلعذار کی صحبت میں آ گیاعارض کا رنگ میری طبیعت میں آ گیاR P Shokh
- شہروں میں ناچتا ہوا جنگل ہے اور میںصدیوں کے بعد بھی وہی قاتل ہے اور میںR P Shokh
- آنسو تھمے جو رخ پہ وہ گیسو بکھر گیاملتے ہی دونوں وقت کے دریا ٹھہر گیامیر کلو عرش
- تھا نجم بخت تیرہ مقابل تمام راتآنکھوں تلے پھرا مرے قاتل تمام راتمیر کلو عرش
- اس وقت بارے کچھ تو کرم بخشی کیجئےگزرے ہم اور بات سے گالی ہی دیجئےمرزا جواں بخت جہاں دار
- جس کو کہ دسترس ہوئی دامان یار تکگلشن میں دہر کے وہی پہنچا بہار تکمرزا جواں بخت جہاں دار
- جو کچھ کیا سو ہم نے کیا اپنی چاہ سےاب شکوہ کیجیے نہ کچھ اس رشک ماہ سےمرزا جواں بخت جہاں دار
- سنتا نہیں کسو ہی کی وہ یار دیکھناکیجو نہ اس سے حال دل اظہار دیکھنامرزا جواں بخت جہاں دار
- قسمت کو اپنے لکھے کے تئیں کون دھو سکےسب ہو سکے ولیک یہ اتنا نہ ہو سکےمرزا جواں بخت جہاں دار
- مت بولیو تو اوس سے جہاں دارؔ دیکھناکھینچے ہوئے ہے آج وہ تلوار دیکھنامرزا جواں بخت جہاں دار
- جو کچھ کہ تو نے سر پہ مرے دل ربا کیادل ہی وہ جانتا ہے کہوں کیا میں کیا کیامرزا جواں بخت جہاں دار
- داغ جنوں دماغ پریشاں میں رہ گیادامن میں خار چاک گریباں میں رہ گیاوزیر علی صبا لکھنؤی
- دل ہے غذائے رنج جگر ہے غذائے رنجپیدا کیا ہے ہم کو خدا نے برائے رنجوزیر علی صبا لکھنؤی