گر عشق ہے تو دیکھنے پیو کو شتاب آ

علیم اللہ

گر عشق ہے تو دیکھنے پیو کو شتاب آ

لا شک ہو حق کی رہ میں چلا بے حجاب آ

اس حسن بے نظیر کے درسن کو دیکھنے

سب خانماں سوں ہو کے اپس کے خراب آ

دریا میں دل کے عشق سوں ہونے کے تئیں محیط

خالی ہو سب خودی سوں نکل جوں حباب آ

کیا دیکھتا ہے صورت خورشید اور چندر

ہر اک نظر میں دیکھ ہزار آفتاب آ

ہر دم علیمؔ دل کے نظر کو دیا ہے تاب

اپنے کرم سوں قبلۂ والا جناب آ