Poetry
Muzari' Musamman Akhrab Makfuf Mahzuf
مضارع مثمن اخرب مکفوف محذوف- آواز دے رہی ہے یے کس کی نظر مجھےشاید ملے کنارہ وہیں ڈوب کر مجھےQamar Jalalabadi (1917–2003)
- چھوٹی سی بے رخی پہ شکایت کی بات ہےاور وہ بھی اس لئے کہ محبت کی بات ہےQamar Jalalabadi (1917–2003)
- یا رب ترے کرم سے یہ سودا کریں گے ہمدنیا میں پی کے خلد میں توبہ کریں گے ہمQamar Jalalabadi (1917–2003)
- اتنا بھی شور تو نہ غم سینہ چاک کرعشق اک لطیف شعلہ ہے اس کو نہ خاک کرJagan Nath Azad (1918–2004)
- اوج کمال شعر ہے حمد و ثنا گریمجھ کو سکھا گئی ہے یہی کچھ سخنوریJagan Nath Azad (1918–2004)
- پھر لوٹ کر گئے نہ کبھی دشت و در سے ہمنکلے بس ایک بار کچھ اس طرح گھر سے ہمJagan Nath Azad (1918–2004)
- دل کا جہان تیرا چہک کر سنور گیاجلوہ ترا نظر سے جو دل تک اتر گیاJagan Nath Azad (1918–2004)
- کب اس میں شک مجھے ہے جو لذت ہے قال میںلیکن وہ بات اس میں کہاں ہے جو حال میںJagan Nath Azad (1918–2004)
- ممکن نہیں کہ بزم طرب پھر سجا سکوںاب یہ بھی ہے بہت کہ تمہیں یاد آ سکوںJagan Nath Azad (1918–2004)
- میں دل میں ان کی یاد کے طوفاں کو پال کرلایا ہوں ایک موج تغزل نکال کرJagan Nath Azad (1918–2004)
- میں کیا کروں کہ ضبط تمنا کے باوجودبے اختیار لب پہ ترا نام آ گیاJagan Nath Azad (1918–2004)
- ہم نے برا بھلا ہی سہی کام تو کیاتم کو تو اعتراض ہی کرنے کا شوق تھاJagan Nath Azad (1918–2004)
- دریا میں ہے سراب عجب ابتلا میں ہوںمیں بھی حسین ہی کی طرح کربلا میں ہوںIbraheem Hosh (1918–1988)
- دیر و حرم میں دشت و بیابان و باغ میںڈھونڈو نہ مجھ کو میں ہوں خود اپنے سراغ میںIbraheem Hosh (1918–1988)
- کرتا ہوں ایک خواب کے مبہم نقوش یادجب سے کھلی ہے آنکھ اسی مشغلے میں ہوںIbraheem Hosh (1918–1988)
- یادوں نے لے لیا مجھے اپنے حصار میںمیرا وجود حافظہ بن کر سکڑ گیاIbraheem Hosh (1918–1988)
- قدرت نے دی ہے مجھ کو بہار آفریں نظرکتنی حسیں نظر ہے یہ کتنی حسیں نظرZabih Allahabadi (1918–1987)
- مجھ کو نہیں دماغ گلوں کی شمیم کااحسان کیوں اٹھاؤں قفس میں نسیم کاZabih Allahabadi (1918–1987)
- اس پر تمہارے پیار کا الزام بھی تو ہےاچھا سہی قتیلؔ پہ بدنام بھی تو ہےQateel Shifai (1919–2001)
- تہہ میں جو رہ گئے وہ صدف بھی نکالئےطغیانیوں کا ہاتھ سمندر میں ڈالیےQateel Shifai (1919–2001)
- جب اپنے اعتقاد کے محور سے ہٹ گیامیں ریزہ ریزہ ہو کے حریفوں میں بٹ گیاQateel Shifai (1919–2001)
- جب سے اسیر زلف گرہ گیر ہو گیامیں بے نیاز حلقۂ زنجیر ہو گیاQateel Shifai (1919–2001)
- دل کو غم حیات گوارا ہے ان دنوںپہلے جو درد تھا وہی چارا ہے ان دنوںQateel Shifai (1919–2001)
- صدمہ تو ہے مجھے بھی کہ تجھ سے جدا ہوں میںلیکن یہ سوچتا ہوں کہ اب تیرا کیا ہوں میںQateel Shifai (1919–2001)
- کیا جانے کس خمار میں کس جوش میں گراوہ پھل شجر سے جو مری آغوش میں گراQateel Shifai (1919–2001)
- کیا عشق تھا جو باعث رسوائی بن گیایارو تمام شہر تماشائی بن گیاQateel Shifai (1919–2001)
- مل کر جدا ہوئے تو نہ سویا کریں گے ہماک دوسرے کی یاد میں رویا کریں گے ہمQateel Shifai (1919–2001)
- منزل جو میں نے پائی تو ششدر بھی میں ہی تھاوہ اس لیے کہ راہ کا پتھر بھی میں ہی تھاQateel Shifai (1919–2001)
- منظر سمیٹ لائے ہیں جو تیرے گاؤں کےنیندیں چرا رہے ہیں وہ جھونکے ہواؤں کےQateel Shifai (1919–2001)
- ہر بے زباں کو شعلہ نوا کہہ لیا کرویارو سکوت ہی کو صدا کہہ لیا کروQateel Shifai (1919–2001)
- ہم کو تو انتظار سحر بھی قبول ہےلیکن شب فراق ترا کیا اصول ہےQateel Shifai (1919–2001)
- یارو کہاں تک اور محبت نبھاؤں میںدو مجھ کو بد دعا کہ اسے بھول جاؤں میںQateel Shifai (1919–2001)
- کچھ کہہ رہی ہیں آپ کے سینے کی دھڑکنیںمیرا نہیں تو دل کا کہا مان جائیےQateel Shifai (1919–2001)
- کیا مصلحت شناس تھا وہ آدمی قتیلؔمجبوریوں کا جس نے وفا نام رکھ دیاQateel Shifai (1919–2001)
- اتنا تو زندگی میں کسی کے خلل پڑےہنسنے سے ہو سکون نہ رونے سے کل پڑےKaifi Azmi (1919–2002)
- کیا جانے کس کی پیاس بجھانے کدھر گئیںاس سر پہ جھوم کے جو گھٹائیں گزر گئیںKaifi Azmi (1919–2002)
- کی ہے کوئی حسین خطا ہر خطا کے ساتھتھوڑا سا پیار بھی مجھے دے دو سزا کے ساتھKaifi Azmi (1919–2002)
- وہ بھی سراہنے لگے ارباب فن کے بعدداد سخن ملی مجھے ترک سخن کے بعدKaifi Azmi (1919–2002)
- لو پو پھٹی وہ چھپ گئی تاروں کی انجمنلو جام مہر سے وہ چھلکنے لگی کرنKaifi Azmi (1919–2002)
- وہ سرد رات جبکہ سفر کر رہا تھا میںرنگینیوں سے ظرف نظر بھر رہا تھا میںKaifi Azmi (1919–2002)
- اس باغ میں وہ سنگ کے قابل کہا نہ جائےجب تک کسی ثمر کو مرا دل کہا نہ جائےMajrooh Sultanpuri (1919–2000)
- اشکوں میں رنگ و بوئے چمن دور تک ملےجس دم اسیر ہو کے چلے گلستاں سے ہمMajrooh Sultanpuri (1919–2000)
- بدلا مزاج حسن تو وہ رو بہ رو نہیںوہ عشوہ و ادا نہیں وہ گفتگو نہیںQaisar Usmani (1919–2000)
- ارض و سما پہ رنگ تھا کیسا اتر گیاآندھی چلی تو شام کا چہرہ اتر گیاJafar Shirazi (b. 1920)
- مدہوشیوں سے کام لیا ہے کبھی کبھیہاتھ ان کا ہم نے تھام لیا ہے کبھی کبھیRaaz Layalpuri (b. 1920)
- اب آئیں یا نہ آئیں ادھر پوچھتے چلوکیا چاہتی ہے ان کی نظر پوچھتے چلوSahir Ludhianvi (1921–1980)
- اتنی حسین اتنی جواں رات کیا کریںجاگے ہیں کچھ عجیب سے جذبات کیا کریںSahir Ludhianvi (1921–1980)
- تنگ آ چکے ہیں کشمکش زندگی سے ہمٹھکرا نہ دیں جہاں کو کہیں بے دلی سے ہمSahir Ludhianvi (1921–1980)
- خودداریوں کے خون کو ارزاں نہ کر سکےہم اپنے جوہروں کو نمایاں نہ کر سکےSahir Ludhianvi (1921–1980)
- دیکھا ہے زندگی کو کچھ اتنا قریب سےچہرے تمام لگنے لگے ہیں عجیب سےSahir Ludhianvi (1921–1980)