Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download →

Poetry

Muzari' Musamman Akhrab Makfuf Mahzuf

مضارع مثمن اخرب مکفوف محذوف
Poet
Meter
Clear
  1. آواز دے رہی ہے یے کس کی نظر مجھےشاید ملے کنارہ وہیں ڈوب کر مجھےQamar Jalalabadi (1917–2003)
  2. چھوٹی سی بے رخی پہ شکایت کی بات ہےاور وہ بھی اس لئے کہ محبت کی بات ہےQamar Jalalabadi (1917–2003)
  3. یا رب ترے کرم سے یہ سودا کریں گے ہمدنیا میں پی کے خلد میں توبہ کریں گے ہمQamar Jalalabadi (1917–2003)
  4. اتنا بھی شور تو نہ غم سینہ چاک کرعشق اک لطیف شعلہ ہے اس کو نہ خاک کرJagan Nath Azad (1918–2004)
  5. اوج کمال شعر ہے حمد و ثنا گریمجھ کو سکھا گئی ہے یہی کچھ سخنوریJagan Nath Azad (1918–2004)
  6. پھر لوٹ کر گئے نہ کبھی دشت و در سے ہمنکلے بس ایک بار کچھ اس طرح گھر سے ہمJagan Nath Azad (1918–2004)
  7. دل کا جہان تیرا چہک کر سنور گیاجلوہ ترا نظر سے جو دل تک اتر گیاJagan Nath Azad (1918–2004)
  8. کب اس میں شک مجھے ہے جو لذت ہے قال میںلیکن وہ بات اس میں کہاں ہے جو حال میںJagan Nath Azad (1918–2004)
  9. ممکن نہیں کہ بزم طرب پھر سجا سکوںاب یہ بھی ہے بہت کہ تمہیں یاد آ سکوںJagan Nath Azad (1918–2004)
  10. میں دل میں ان کی یاد کے طوفاں کو پال کرلایا ہوں ایک موج تغزل نکال کرJagan Nath Azad (1918–2004)
  11. میں کیا کروں کہ ضبط تمنا کے باوجودبے اختیار لب پہ ترا نام آ گیاJagan Nath Azad (1918–2004)
  12. ہم نے برا بھلا ہی سہی کام تو کیاتم کو تو اعتراض ہی کرنے کا شوق تھاJagan Nath Azad (1918–2004)
  13. دریا میں ہے سراب عجب ابتلا میں ہوںمیں بھی حسین ہی کی طرح کربلا میں ہوںIbraheem Hosh (1918–1988)
  14. دیر و حرم میں دشت و بیابان و باغ میںڈھونڈو نہ مجھ کو میں ہوں خود اپنے سراغ میںIbraheem Hosh (1918–1988)
  15. کرتا ہوں ایک خواب کے مبہم نقوش یادجب سے کھلی ہے آنکھ اسی مشغلے میں ہوںIbraheem Hosh (1918–1988)
  16. یادوں نے لے لیا مجھے اپنے حصار میںمیرا وجود حافظہ بن کر سکڑ گیاIbraheem Hosh (1918–1988)
  17. قدرت نے دی ہے مجھ کو بہار آفریں نظرکتنی حسیں نظر ہے یہ کتنی حسیں نظرZabih Allahabadi (1918–1987)
  18. مجھ کو نہیں دماغ گلوں کی شمیم کااحسان کیوں اٹھاؤں قفس میں نسیم کاZabih Allahabadi (1918–1987)
  19. اس پر تمہارے پیار کا الزام بھی تو ہےاچھا سہی قتیلؔ پہ بدنام بھی تو ہےQateel Shifai (1919–2001)
  20. تہہ میں جو رہ گئے وہ صدف بھی نکالئےطغیانیوں کا ہاتھ سمندر میں ڈالیےQateel Shifai (1919–2001)
  21. جب اپنے اعتقاد کے محور سے ہٹ گیامیں ریزہ ریزہ ہو کے حریفوں میں بٹ گیاQateel Shifai (1919–2001)
  22. جب سے اسیر زلف گرہ گیر ہو گیامیں بے نیاز حلقۂ زنجیر ہو گیاQateel Shifai (1919–2001)
  23. دل کو غم حیات گوارا ہے ان دنوںپہلے جو درد تھا وہی چارا ہے ان دنوںQateel Shifai (1919–2001)
  24. صدمہ تو ہے مجھے بھی کہ تجھ سے جدا ہوں میںلیکن یہ سوچتا ہوں کہ اب تیرا کیا ہوں میںQateel Shifai (1919–2001)
  25. کیا جانے کس خمار میں کس جوش میں گراوہ پھل شجر سے جو مری آغوش میں گراQateel Shifai (1919–2001)
  26. کیا عشق تھا جو باعث رسوائی بن گیایارو تمام شہر تماشائی بن گیاQateel Shifai (1919–2001)
  27. مل کر جدا ہوئے تو نہ سویا کریں گے ہماک دوسرے کی یاد میں رویا کریں گے ہمQateel Shifai (1919–2001)
  28. منزل جو میں نے پائی تو ششدر بھی میں ہی تھاوہ اس لیے کہ راہ کا پتھر بھی میں ہی تھاQateel Shifai (1919–2001)
  29. منظر سمیٹ لائے ہیں جو تیرے گاؤں کےنیندیں چرا رہے ہیں وہ جھونکے ہواؤں کےQateel Shifai (1919–2001)
  30. ہر بے زباں کو شعلہ نوا کہہ لیا کرویارو سکوت ہی کو صدا کہہ لیا کروQateel Shifai (1919–2001)
  31. ہم کو تو انتظار سحر بھی قبول ہےلیکن شب فراق ترا کیا اصول ہےQateel Shifai (1919–2001)
  32. یارو کہاں تک اور محبت نبھاؤں میںدو مجھ کو بد دعا کہ اسے بھول جاؤں میںQateel Shifai (1919–2001)
  33. کچھ کہہ رہی ہیں آپ کے سینے کی دھڑکنیںمیرا نہیں تو دل کا کہا مان جائیےQateel Shifai (1919–2001)
  34. کیا مصلحت شناس تھا وہ آدمی قتیلؔمجبوریوں کا جس نے وفا نام رکھ دیاQateel Shifai (1919–2001)
  35. اتنا تو زندگی میں کسی کے خلل پڑےہنسنے سے ہو سکون نہ رونے سے کل پڑےKaifi Azmi (1919–2002)
  36. کیا جانے کس کی پیاس بجھانے کدھر گئیںاس سر پہ جھوم کے جو گھٹائیں گزر گئیںKaifi Azmi (1919–2002)
  37. کی ہے کوئی حسین خطا ہر خطا کے ساتھتھوڑا سا پیار بھی مجھے دے دو سزا کے ساتھKaifi Azmi (1919–2002)
  38. وہ بھی سراہنے لگے ارباب فن کے بعدداد سخن ملی مجھے ترک سخن کے بعدKaifi Azmi (1919–2002)
  39. لو پو پھٹی وہ چھپ گئی تاروں کی انجمنلو جام مہر سے وہ چھلکنے لگی کرنKaifi Azmi (1919–2002)
  40. وہ سرد رات جبکہ سفر کر رہا تھا میںرنگینیوں سے ظرف نظر بھر رہا تھا میںKaifi Azmi (1919–2002)
  41. اس باغ میں وہ سنگ کے قابل کہا نہ جائےجب تک کسی ثمر کو مرا دل کہا نہ جائےMajrooh Sultanpuri (1919–2000)
  42. اشکوں میں رنگ و بوئے چمن دور تک ملےجس دم اسیر ہو کے چلے گلستاں سے ہمMajrooh Sultanpuri (1919–2000)
  43. بدلا مزاج حسن تو وہ رو بہ رو نہیںوہ عشوہ و ادا نہیں وہ گفتگو نہیںQaisar Usmani (1919–2000)
  44. ارض و سما پہ رنگ تھا کیسا اتر گیاآندھی چلی تو شام کا چہرہ اتر گیاJafar Shirazi (b. 1920)
  45. مدہوشیوں سے کام لیا ہے کبھی کبھیہاتھ ان کا ہم نے تھام لیا ہے کبھی کبھیRaaz Layalpuri (b. 1920)
  46. اب آئیں یا نہ آئیں ادھر پوچھتے چلوکیا چاہتی ہے ان کی نظر پوچھتے چلوSahir Ludhianvi (1921–1980)
  47. اتنی حسین اتنی جواں رات کیا کریںجاگے ہیں کچھ عجیب سے جذبات کیا کریںSahir Ludhianvi (1921–1980)
  48. تنگ آ چکے ہیں کشمکش زندگی سے ہمٹھکرا نہ دیں جہاں کو کہیں بے دلی سے ہمSahir Ludhianvi (1921–1980)
  49. خودداریوں کے خون کو ارزاں نہ کر سکےہم اپنے جوہروں کو نمایاں نہ کر سکےSahir Ludhianvi (1921–1980)
  50. دیکھا ہے زندگی کو کچھ اتنا قریب سےچہرے تمام لگنے لگے ہیں عجیب سےSahir Ludhianvi (1921–1980)