دل کا جہان تیرا چہک کر سنور گیا

Jagan Nath Azad (1918–2004)

دل کا جہان تیرا چہک کر سنور گیا

جلوہ ترا نظر سے جو دل تک اتر گیا

مدت کے بعد دل سے پھر ابھرا ہے سیل اشک

میں یہ سمجھ رہا تھا یہ طوفاں اتر گیا

جن کے سوا گھڑی بھی گزرنا محال تھی

ان کی خبر نہ آئی زمانہ گزر گیا

افسردہ دل تھی اس پہ بھی دنیا اگرچہ میں

محفل میں تیری مثل نسیم سحر گیا

تم مسکرا کے ایک طرف ہو گئے یہاں

آنسو نہیں تھمے ہیں زمانہ گزر گیا

آزادؔ صرف ایک ہی چہرہ نظر میں ہے

طوفان حسن اگرچہ نظر سے گزر گیا