مجھ کو نہیں دماغ گلوں کی شمیم کا

Zabih Allahabadi (1918–1987)

مجھ کو نہیں دماغ گلوں کی شمیم کا

احسان کیوں اٹھاؤں قفس میں نسیم کا

میری نگاہ شوق پہنچ جائے گی وہیں

پایا بلند لاکھ ہو تیرے حریم کا

پھیلی ہے اس کی خانۂ کعبہ میں روشنی

ہے داغ دل چراغ رہ مستقیم کا

ہم بوئے گل کے ساتھ قفس کو بھی لے اڑے

آیا چمن میں جب کوئی جھونکا نسیم کا

یہ میرے ایک اشک ندامت کا تھا اثر

شعلہ بھڑک کے بجھ گیا نار جحیم کا

مے خانۂ ازل کا ہوں میں مست وہ ذبیحؔ

پیتا ہوں لے کے نام غفور‌‌ الرحیم کا