قدرت نے دی ہے مجھ کو بہار آفریں نظر

Zabih Allahabadi (1918–1987)

قدرت نے دی ہے مجھ کو بہار آفریں نظر

کتنی حسیں نظر ہے یہ کتنی حسیں نظر

دیکھی نشان سجدے میں تصویر حسن کی

روشن ہوئی تو بن گئی میری حسیں نظر

مدفن میں ہم تو آئے تھے دنیا کو چھوڑ کر

دنیا اک اور آتی ہے زیر زمیں نظر

چھپ کر حجاب ناز میں بھی وہ نہ چھپ سکے

اللہ رے شوق دید کی پہنچی وہیں نظر

وہ آئیں بھی تو میں انہیں دیکھوں گا کس طرح

دیتی نہیں ہے کام دم واپسیں نظر

مجبوریاں بھی ساتھ رہیں اختیار میں

رہتا ہے دل میں وہ مگر آتا نہیں نظر

میں حال بے خودی بھی کہوں تم سے کیا ذبیحؔ

بیٹھا ہوا کہیں ہوں مگر ہے کہیں نظر