Poetry
Muzari' Musamman Akhrab Makfuf Mahzuf
مضارع مثمن اخرب مکفوف محذوف- ان کی طرف سے ترک ملاقات ہو گئیہم جس سے ڈر رہے تھے وہی بات ہو گئیQamar Jalalvi (1887–1968)
- بارش میں عہد توڑ کے گر مے کشی ہوئیتوبہ مری پھرے گی کہاں بھیگتی ہوئیQamar Jalalvi (1887–1968)
- پیتے ہی سرخ آنکھیں ہیں مست شراب کیگرمی تو دیکھو ڈوبے ہوئے آفتاب کیQamar Jalalvi (1887–1968)
- دونوں ہیں ان کے ہجر کا حاصل لئے ہوئےدل کو ہے درد درد کو ہے دل لئے ہوئےQamar Jalalvi (1887–1968)
- سوز غم فراق سے دل کو بچائے کونظالم تری لگائی ہوئی کو بجھائے کونQamar Jalalvi (1887–1968)
- کرتے بھی کیا حضور نہ جب اپنے گھر ملےدشمن سے ہم کبھی نہ ملے تھے مگر ملےQamar Jalalvi (1887–1968)
- آنکھوں کا تھا قصور نہ دل کا قصور تھاآیا جو میرے سامنے میرا غرور تھاJigar Moradabadi (1890–1960)
- آنکھوں میں بس کے دل میں سما کر چلے گئےخوابیدہ زندگی تھی جگا کر چلے گئےJigar Moradabadi (1890–1960)
- آیا نہ راس نالۂ دل کا اثر مجھےاب تم ملے تو کچھ نہیں اپنی خبر مجھےJigar Moradabadi (1890–1960)
- اے حسن یار شرم یہ کیا انقلاب ہےتجھ سے زیادہ درد ترا کامیاب ہےJigar Moradabadi (1890–1960)
- بے کیف دل ہے اور جیے جا رہا ہوں میںخالی ہے شیشہ اور پیے جا رہا ہوں میںJigar Moradabadi (1890–1960)
- دل کو سکون روح کو آرام آ گیاموت آ گئی کہ دوست کا پیغام آ گیاJigar Moradabadi (1890–1960)
- دل کو مٹا کے داغ تمنا دیا مجھےاے عشق تیری خیر ہو یہ کیا دیا مجھےJigar Moradabadi (1890–1960)
- دل میں کسی کے راہ کئے جا رہا ہوں میںکتنا حسیں گناہ کئے جا رہا ہوں میںJigar Moradabadi (1890–1960)
- رکھتے ہیں خضر سے نہ غرض رہ نما سے ہمچلتے ہیں بچ کے دور ہر اک نقش پا سے ہمJigar Moradabadi (1890–1960)
- شرما گئے لجا گئے دامن چھڑا گئےاے عشق مرحبا وہ یہاں تک تو آ گئےJigar Moradabadi (1890–1960)
- کچھ اس ادا سے آج وہ پہلو نشیں رہےجب تک ہمارے پاس رہے ہم نہیں رہےJigar Moradabadi (1890–1960)
- لاکھوں میں انتخاب کے قابل بنا دیاجس دل کو تم نے دیکھ لیا دل بنا دیاJigar Moradabadi (1890–1960)
- یادش بخیر جب وہ تصور میں آ گیاشعر و شباب و حسن کا دریا بہا گیاJigar Moradabadi (1890–1960)
- یادJigar Moradabadi (1890–1960)
- شکست توبہJigar Moradabadi (1890–1960)
- کانٹا تھا چشم یاس میں ایک ایک رنگ گلمیرے لیے چمن بھی بیاباں نکل گیاJigar Moradabadi (1890–1960)
- اتنے حجابوں پر تو یہ عالم ہے حسن کاکیا حال ہو جو دیکھ لیں پردہ اٹھا کے ہمJigar Moradabadi (1890–1960)
- عادت کے بعد درد بھی دینے لگا مزاہنس ہنس کے آہ آہ کئے جا رہا ہوں میںJigar Moradabadi (1890–1960)
- دل مٹ گیا تو خیر ضرورت نہیں رہیحسرت یہ رہ گئی ہے کہ حسرت نہیں رہیNadir Shahjahanpuri (1890–1963)
- لگتا نہیں کہیں بھی مرا دل ترے بغیردونوں جہاں نہیں مرے قابل ترے بغیرNadir Shahjahanpuri (1890–1963)
- بے تاب پاس شمع کے پروانہ آ گیاکیا بات ہے کہ ہوش میں دیوانہ آ گیاKaifi Chirayyakoti (1890–1956)
- تقدیر شمع جلوۂ جانانہ بن گیاشعلہ اٹھا جو اس سے تو پردا نہ بن گیاKaifi Chirayyakoti (1890–1956)
- اس بے وفا کی بزم سے چشم خیال میںاک خواب آرزو کا لیے جا رہا ہوں میںHadi Machlishahri (1890–1961)
- کھویا ہوا سا رہتا ہوں اکثر میں عشق میںیا یوں کہو کہ ہوش میں آنے لگا ہوں میںHadi Machlishahri (1890–1961)
- اے بد گماں ترا ہے گماں اور کی طرفمیرا ترے سوا نہیں دھیاں اور کی طرفShad Lakhnavi (d. 1892)
- ٹوٹے جو دانت منہ کی شباہت بگڑ گئیوہ گھر ہوا خراب جہاں پھوٹ پڑ گئیShad Lakhnavi (d. 1892)
- شرطیں جو بندگی میں لگانا روا ہوااے واعظوں نماز نہ ٹھہری جوا ہواShad Lakhnavi (d. 1892)
- ہر شب خیال غیر کے مارے الگ تھلگآتے ہیں خواب میں وہ ہمارے الگ تھلگShad Lakhnavi (d. 1892)
- ہم سے دو چار بزم میں دھیان اور کی طرفآنکھ اس طرف لگائی ہے کان اور کی طرفShad Lakhnavi (d. 1892)
- آئی ہے کچھ نہ پوچھ قیامت کہاں کہاںاف لے گئی ہے مجھ کو محبت کہاں کہاںFiraq Gorakhpuri (1896–1982)
- وقت غروب آج کرامات ہو گئیزلفوں کو اس نے کھول دیا رات ہو گئیFiraq Gorakhpuri (1896–1982)
- ہجر و وصال یار کا پردہ اٹھا دیاخود بڑھ کے عشق نے مجھے میرا پتا دیاFiraq Gorakhpuri (1896–1982)
- یہ نکہتوں کی نرم روی یہ ہوا یہ راتیاد آ رہے ہیں عشق کو ٹوٹے تعلقاتFiraq Gorakhpuri (1896–1982)
- دنیا کو انقلاب کی یاد آ رہی ہے آجتاریخ اپنے آپ کو دہرا رہی ہے آجFiraq Gorakhpuri (1896–1982)
- آئے تھے ہنستے کھیلتے مے خانے میں فراقؔجب پی چکے شراب تو سنجیدہ ہو گئےFiraq Gorakhpuri (1896–1982)
- اب یاد رفتگاں کی بھی ہمت نہیں رہییاروں نے کتنی دور بسائی ہیں بستیاںFiraq Gorakhpuri (1896–1982)
- سنتے ہیں عشق نام کے گزرے ہیں اک بزرگہم لوگ بھی فقیر اسی سلسلے کے ہیںFiraq Gorakhpuri (1896–1982)
- لائی نہ ایسوں ویسوں کو خاطر میں آج تکاونچی ہے کس قدر تری نیچی نگاہ بھیFiraq Gorakhpuri (1896–1982)
- میں مدتوں جیا ہوں کسی دوست کے بغیراب تم بھی ساتھ چھوڑنے کو کہہ رہے ہو خیرFiraq Gorakhpuri (1896–1982)
- اک چاہ کی نگاہ کا افسانہ بن گیاوہ انگلیاں اٹھیں کہ میں دیوانہ بن گیاAal-e-Raza Raza (1896–1978)
- ان کے ستم بھی کہہ نہیں سکتے کسی سے ہمگھٹ گھٹ کے مر رہے ہیں عجب بے بسی سے ہمAal-e-Raza Raza (1896–1978)
- آ ہی گیا وہ مجھ کو لحد میں اتارنےغفلت ذرا نہ کی مرے غفلت شعار نےHafeez Jalandhari (1900–1982)
- اس شوخ نے نگاہ نہ کی ہم بھی چپ رہےہم نے بھی آہ آہ نہ کی ہم بھی چپ رہےHafeez Jalandhari (1900–1982)
- ان تلخ آنسوؤں کو نہ یوں منہ بنا کے پییہ مے ہے خودکشید اسے مسکرا کے پیHafeez Jalandhari (1900–1982)