Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download →

Poetry

Muzari' Musamman Akhrab Makfuf Mahzuf

مضارع مثمن اخرب مکفوف محذوف
Poet
Meter
Clear
  1. ان کی طرف سے ترک ملاقات ہو گئیہم جس سے ڈر رہے تھے وہی بات ہو گئیQamar Jalalvi (1887–1968)
  2. بارش میں عہد توڑ کے گر مے کشی ہوئیتوبہ مری پھرے گی کہاں بھیگتی ہوئیQamar Jalalvi (1887–1968)
  3. پیتے ہی سرخ آنکھیں ہیں مست شراب کیگرمی تو دیکھو ڈوبے ہوئے آفتاب کیQamar Jalalvi (1887–1968)
  4. دونوں ہیں ان کے ہجر کا حاصل لئے ہوئےدل کو ہے درد درد کو ہے دل لئے ہوئےQamar Jalalvi (1887–1968)
  5. سوز غم فراق سے دل کو بچائے کونظالم تری لگائی ہوئی کو بجھائے کونQamar Jalalvi (1887–1968)
  6. کرتے بھی کیا حضور نہ جب اپنے گھر ملےدشمن سے ہم کبھی نہ ملے تھے مگر ملےQamar Jalalvi (1887–1968)
  7. آنکھوں کا تھا قصور نہ دل کا قصور تھاآیا جو میرے سامنے میرا غرور تھاJigar Moradabadi (1890–1960)
  8. آنکھوں میں بس کے دل میں سما کر چلے گئےخوابیدہ زندگی تھی جگا کر چلے گئےJigar Moradabadi (1890–1960)
  9. آیا نہ راس نالۂ دل کا اثر مجھےاب تم ملے تو کچھ نہیں اپنی خبر مجھےJigar Moradabadi (1890–1960)
  10. اے حسن یار شرم یہ کیا انقلاب ہےتجھ سے زیادہ درد ترا کامیاب ہےJigar Moradabadi (1890–1960)
  11. بے کیف دل ہے اور جیے جا رہا ہوں میںخالی ہے شیشہ اور پیے جا رہا ہوں میںJigar Moradabadi (1890–1960)
  12. دل کو سکون روح کو آرام آ گیاموت آ گئی کہ دوست کا پیغام آ گیاJigar Moradabadi (1890–1960)
  13. دل کو مٹا کے داغ تمنا دیا مجھےاے عشق تیری خیر ہو یہ کیا دیا مجھےJigar Moradabadi (1890–1960)
  14. دل میں کسی کے راہ کئے جا رہا ہوں میںکتنا حسیں گناہ کئے جا رہا ہوں میںJigar Moradabadi (1890–1960)
  15. رکھتے ہیں خضر سے نہ غرض رہ نما سے ہمچلتے ہیں بچ کے دور ہر اک نقش پا سے ہمJigar Moradabadi (1890–1960)
  16. شرما گئے لجا گئے دامن چھڑا گئےاے عشق مرحبا وہ یہاں تک تو آ گئےJigar Moradabadi (1890–1960)
  17. کچھ اس ادا سے آج وہ پہلو نشیں رہےجب تک ہمارے پاس رہے ہم نہیں رہےJigar Moradabadi (1890–1960)
  18. لاکھوں میں انتخاب کے قابل بنا دیاجس دل کو تم نے دیکھ لیا دل بنا دیاJigar Moradabadi (1890–1960)
  19. یادش بخیر جب وہ تصور میں آ گیاشعر و شباب و حسن کا دریا بہا گیاJigar Moradabadi (1890–1960)
  20. یادJigar Moradabadi (1890–1960)
  21. شکست توبہJigar Moradabadi (1890–1960)
  22. کانٹا تھا چشم یاس میں ایک ایک رنگ گلمیرے لیے چمن بھی بیاباں نکل گیاJigar Moradabadi (1890–1960)
  23. اتنے حجابوں پر تو یہ عالم ہے حسن کاکیا حال ہو جو دیکھ لیں پردہ اٹھا کے ہمJigar Moradabadi (1890–1960)
  24. عادت کے بعد درد بھی دینے لگا مزاہنس ہنس کے آہ آہ کئے جا رہا ہوں میںJigar Moradabadi (1890–1960)
  25. دل مٹ گیا تو خیر ضرورت نہیں رہیحسرت یہ رہ گئی ہے کہ حسرت نہیں رہیNadir Shahjahanpuri (1890–1963)
  26. لگتا نہیں کہیں بھی مرا دل ترے بغیردونوں جہاں نہیں مرے قابل ترے بغیرNadir Shahjahanpuri (1890–1963)
  27. بے تاب پاس شمع کے پروانہ آ گیاکیا بات ہے کہ ہوش میں دیوانہ آ گیاKaifi Chirayyakoti (1890–1956)
  28. تقدیر شمع جلوۂ جانانہ بن گیاشعلہ اٹھا جو اس سے تو پردا نہ بن گیاKaifi Chirayyakoti (1890–1956)
  29. اس بے وفا کی بزم سے چشم خیال میںاک خواب آرزو کا لیے جا رہا ہوں میںHadi Machlishahri (1890–1961)
  30. کھویا ہوا سا رہتا ہوں اکثر میں عشق میںیا یوں کہو کہ ہوش میں آنے لگا ہوں میںHadi Machlishahri (1890–1961)
  31. اے بد گماں ترا ہے گماں اور کی طرفمیرا ترے سوا نہیں دھیاں اور کی طرفShad Lakhnavi (d. 1892)
  32. ٹوٹے جو دانت منہ کی شباہت بگڑ گئیوہ گھر ہوا خراب جہاں پھوٹ پڑ گئیShad Lakhnavi (d. 1892)
  33. شرطیں جو بندگی میں لگانا روا ہوااے واعظوں نماز نہ ٹھہری جوا ہواShad Lakhnavi (d. 1892)
  34. ہر شب خیال غیر کے مارے الگ تھلگآتے ہیں خواب میں وہ ہمارے الگ تھلگShad Lakhnavi (d. 1892)
  35. ہم سے دو چار بزم میں دھیان اور کی طرفآنکھ اس طرف لگائی ہے کان اور کی طرفShad Lakhnavi (d. 1892)
  36. آئی ہے کچھ نہ پوچھ قیامت کہاں کہاںاف لے گئی ہے مجھ کو محبت کہاں کہاںFiraq Gorakhpuri (1896–1982)
  37. وقت غروب آج کرامات ہو گئیزلفوں کو اس نے کھول دیا رات ہو گئیFiraq Gorakhpuri (1896–1982)
  38. ہجر و وصال یار کا پردہ اٹھا دیاخود بڑھ کے عشق نے مجھے میرا پتا دیاFiraq Gorakhpuri (1896–1982)
  39. یہ نکہتوں کی نرم روی یہ ہوا یہ راتیاد آ رہے ہیں عشق کو ٹوٹے تعلقاتFiraq Gorakhpuri (1896–1982)
  40. دنیا کو انقلاب کی یاد آ رہی ہے آجتاریخ اپنے آپ کو دہرا رہی ہے آجFiraq Gorakhpuri (1896–1982)
  41. آئے تھے ہنستے کھیلتے مے خانے میں فراقؔجب پی چکے شراب تو سنجیدہ ہو گئےFiraq Gorakhpuri (1896–1982)
  42. اب یاد رفتگاں کی بھی ہمت نہیں رہییاروں نے کتنی دور بسائی ہیں بستیاںFiraq Gorakhpuri (1896–1982)
  43. سنتے ہیں عشق نام کے گزرے ہیں اک بزرگہم لوگ بھی فقیر اسی سلسلے کے ہیںFiraq Gorakhpuri (1896–1982)
  44. لائی نہ ایسوں ویسوں کو خاطر میں آج تکاونچی ہے کس قدر تری نیچی نگاہ بھیFiraq Gorakhpuri (1896–1982)
  45. میں مدتوں جیا ہوں کسی دوست کے بغیراب تم بھی ساتھ چھوڑنے کو کہہ رہے ہو خیرFiraq Gorakhpuri (1896–1982)
  46. اک چاہ کی نگاہ کا افسانہ بن گیاوہ انگلیاں اٹھیں کہ میں دیوانہ بن گیاAal-e-Raza Raza (1896–1978)
  47. ان کے ستم بھی کہہ نہیں سکتے کسی سے ہمگھٹ گھٹ کے مر رہے ہیں عجب بے بسی سے ہمAal-e-Raza Raza (1896–1978)
  48. آ ہی گیا وہ مجھ کو لحد میں اتارنےغفلت ذرا نہ کی مرے غفلت شعار نےHafeez Jalandhari (1900–1982)
  49. اس شوخ نے نگاہ نہ کی ہم بھی چپ رہےہم نے بھی آہ آہ نہ کی ہم بھی چپ رہےHafeez Jalandhari (1900–1982)
  50. ان تلخ آنسوؤں کو نہ یوں منہ بنا کے پییہ مے ہے خودکشید اسے مسکرا کے پیHafeez Jalandhari (1900–1982)