شرما گئے لجا گئے دامن چھڑا گئے

Jigar Moradabadi (1890–1960)

شرما گئے لجا گئے دامن چھڑا گئے

اے عشق مرحبا وہ یہاں تک تو آ گئے

دل پر ہزار طرح کے اوہام چھا گئے

یہ تم نے کیا کیا مری دنیا میں آ گئے

سب کچھ لٹا کے راہ محبت میں اہل دل

خوش ہیں کہ جیسے دولت کونین پا گئے

صحن چمن کو اپنی بہاروں پہ ناز تھا

وہ آ گئے تو ساری بہاروں پہ چھا گئے

عقل و جنوں میں سب کی تھیں راہیں جدا جدا

ہر پھر کے لیکن ایک ہی منزل پہ آ گئے

اب کیا کروں میں فطرت ناکام عشق کو

جتنے تھے حادثات مجھے راس آ گئے