دل کو سکون روح کو آرام آ گیا

Jigar Moradabadi (1890–1960)

دل کو سکون روح کو آرام آ گیا

موت آ گئی کہ دوست کا پیغام آ گیا

جب کوئی ذکر گردش آیام آ گیا

بے اختیار لب پہ ترا نام آ گیا

غم میں بھی ہے سرور وہ ہنگام آ گیا

شاید کہ دور بادۂ گلفام آ گیا

دیوانگی ہو عقل ہو امید ہو کہ یاس

اپنا وہی ہے وقت پہ جو کام آ گیا

دل کے معاملات میں ناصح شکست کیا

سو بار حسن پر بھی یہ الزام آ گیا

صیاد شادماں ہے مگر یہ تو سوچ لے

میں آ گیا کہ سایہ تہ دام آ گیا

دل کو نہ پوچھ معرکۂ حسن و عشق میں

کیا جانیے غریب کہاں کام آ گیا

یہ کیا مقام عشق ہے ظالم کہ ان دنوں

اکثر ترے بغیر بھی آرام آ گیا

احباب مجھ سے قطع تعلق کریں جگر

اب آفتاب زیست لب بام آ گیا