کانٹا تھا چشم یاس میں ایک ایک رنگ گل
Jigar Moradabadi (1890–1960)کانٹا تھا چشم یاس میں ایک ایک رنگ گل
میرے لیے چمن بھی بیاباں نکل گیا
دست جنوں کا ضعف سے اٹھنا محال تھا
کیا جانے کس طرح سے گریباں نکل گیا
دل میں تو آگ ہی وہی اب تک لگی ہوئی
مانا کہ چشم شوق کا ارماں نکل گیا
جوش جنوں سے کچھ نہ چلی ضبط عشق کی
سو سو جگہ سے آج گریباں نکل گیا