سنتے ہیں عشق نام کے گزرے ہیں اک بزرگ

Firaq Gorakhpuri (1896–1982)

سنتے ہیں عشق نام کے گزرے ہیں اک بزرگ

ہم لوگ بھی فقیر اسی سلسلے کے ہیں