آئے تھے ہنستے کھیلتے مے خانے میں فراقؔ

Firaq Gorakhpuri (1896–1982)

آئے تھے ہنستے کھیلتے مے خانے میں فراقؔ

جب پی چکے شراب تو سنجیدہ ہو گئے