Poetry
Mujtass Musamman Makhbun Mahzuf
مجتث مثمن مخبون محذوف- مری تلاش کا آخر صلہ کہیں تو ملےتمہارے نقش قدم کا پتا کہیں تو ملےBahzad Fatami (b. 1914)
- اٹھاؤ ہاتھ کہ دست دعا بلند کریںہماری عمر کا اک اور دن تمام ہواAkhtar-ul-Iman (1915–1996)
- سماں سہانا تھا ٹھنڈی ہوا کے جھونکوں سےبدن کو تازگی ملتی تھی روح میں جیسےAkhtar-ul-Iman (1915–1996)
- ہزار بار ہوا یوں کہ جب امید گئیگلوں سے رابطہ ٹوٹا نہ خار اپنے رہےAkhtar-ul-Iman (1915–1996)
- ہوائیں لے گئیں وہ خاک بھی اڑا کے جسےکبھی تمہارے قدم چھو گئے تھے اور میں نےAkhtar-ul-Iman (1915–1996)
- شعور میں کبھی احساس میں بساؤں اسےمگر میں چار طرف بے حجاب پاؤں اسےAhmad Nadeem Qasmi (1916–2006)
- عجیب رنگ ترے حسن کا لگاؤ میں تھاگلاب جیسے کڑی دھوپ کے الاؤ میں تھاAhmad Nadeem Qasmi (1916–2006)
- قرار جاں بھی تمہی اضطراب جاں بھی تمہیمرا یقیں بھی تمہی ہو مرا گماں بھی تمہیAhmad Nadeem Qasmi (1916–2006)
- کہیں وہ میری محبت میں گھل رہا ہی نہ ہوخدا کرے اسے یہ تجربہ ہوا ہی نہ ہوAhmad Nadeem Qasmi (1916–2006)
- کھڑا تھا کب سے زمیں پیٹھ پر اٹھائے ہوئےآب آدمی ہے قیامت سے لو لگائے ہوئےAhmad Nadeem Qasmi (1916–2006)
- مرا غرور تجھے کھو کے ہار مان گیامیں چوٹ کھا کے مگر اپنی قدر جان گیاAhmad Nadeem Qasmi (1916–2006)
- ہمیشہ ظلم کے منظر ہمیں دکھائے گئےپہاڑ توڑے گئے اور محل بنائے گئےAhmad Nadeem Qasmi (1916–2006)
- مجھے جمال بدن کا ہے اعتراف مگرمیں کیا کروں کہ ورائے بدن بھی دیکھتا ہوںAhmad Nadeem Qasmi (1916–2006)
- نگاہ ناز کا اک وار کر کے چھوڑ دیادل حریف کو بیدار کر کے چھوڑ دیاShakeel Badayuni (1916–1970)
- چمن میں آتش گل بھی نہیں دھواں بھی نہیںبہار تو یہ نہیں ہے مگر خزاں بھی نہیںRaaz Muradabadi (1916–1982)
- یہ اور بات کہ یہ سحر بیش و کم پہ چلاسیاہ رات کا جادو مگر نہ ہم پہ چلاJafar Tahir (1917–1977)
- مرے خدا مجھے تھوڑی سی زندگی دے دےاداس میرے جنازے سے جا رہا ہے کوئیQamar Jalalabadi (1917–2003)
- تمام عمر مرے دل کو یہ غرور رہاکہ ایک لمحے کو یہ بھی ترے حضور رہاJagan Nath Azad (1918–2004)
- نشے میں ہوں مگر آلودۂ شراب نہیںخراب ہوں مگر اتنا بھی میں خراب نہیںJagan Nath Azad (1918–2004)
- میں اس خیال میں تھا بجھ چکی ہے آتش دردبھڑک رہی تھی مرے دل میں جو زمانے سےJagan Nath Azad (1918–2004)
- مری نظر میں ہے انجام اس تعاقب کاجہاں بھی دوستی جاتی ہے دشمنی جائےIbraheem Hosh (1918–1988)
- اگرچہ مجھ کو جدائی تری گوارا نہیںسوائے اس کے مگر اور کوئی چارہ نہیںQateel Shifai (1919–2001)
- ستم کے بعد کرم کی ادا بھی خوب رہیجفا تو خیر جفا تھی وفا بھی خوب رہیQateel Shifai (1919–2001)
- سکون دل تو کہاں راحت نظر بھی نہیںیہ کیسی بزم ہے جس میں ترا گزر بھی نہیںQateel Shifai (1919–2001)
- فسردگی کا مداوا کریں تو کیسے کریںوہ لوگ جو ترے قرب جمال سے بھی ڈریںQateel Shifai (1919–2001)
- مری نظر سے نہ ہو دور ایک پل کے لیےترا وجود ہے لازم مری غزل کے لیےQateel Shifai (1919–2001)
- وہ دل ہی کیا ترے ملنے کی جو دعا نہ کرےمیں تجھ کو بھول کے زندہ رہوں خدا نہ کرےQateel Shifai (1919–2001)
- یہ معجزہ بھی محبت کبھی دکھائے مجھےکہ سنگ تجھ پہ گرے اور زخم آئے مجھےQateel Shifai (1919–2001)
- جو وہ مرے نہ رہے میں بھی کب کسی کا رہابچھڑ کے ان سے سلیقہ نہ زندگی کا رہاKaifi Azmi (1919–2002)
- جھکی جھکی سی نظر بے قرار ہے کہ نہیںدبا دبا سا سہی دل میں پیار ہے کہ نہیںKaifi Azmi (1919–2002)
- اب اور کیا ترا بیمار باپ دے گا تجھےبس اک دعا کہ خدا تجھ کو کامیاب کرےKaifi Azmi (1919–2002)
- شگفتگی کا لطافت کا شاہکار ہو تمفقط بہار نہیں حاصل بہار ہو تمKaifi Azmi (1919–2002)
- کبھی جمود کبھی صرف انتشار سا ہےجہاں کو اپنی تباہی کا انتظار سا ہےKaifi Azmi (1919–2002)
- اب اہل درد یہ جینے کا اہتمام کریںاسے بھلا کے غم زندگی کا نام کریںMajrooh Sultanpuri (1919–2000)
- ادائے طول سخن کیا وہ اختیار کرےجو عرض حال بہ طرز نگاہ یار کرےMajrooh Sultanpuri (1919–2000)
- جلا کے مشعل جاں ہم جنوں صفات چلےجو گھر کو آگ لگائے ہمارے ساتھ چلےMajrooh Sultanpuri (1919–2000)
- چمن ہے مقتل نغمہ اب اور کیا کہیےبس اک سکوت کا عالم جسے نوا کہیےMajrooh Sultanpuri (1919–2000)
- کسی نے بھی تو نہ دیکھا نگاہ بھر کے مجھےگیا پھر آج کا دن بھی اداس کر کے مجھےMajrooh Sultanpuri (1919–2000)
- ہمیں شعور جنوں ہے کہ جس چمن میں رہےنگاہ بن کے حسینوں کی انجمن میں رہےMajrooh Sultanpuri (1919–2000)
- بڑھائی مے جو محبت سے آج ساقی نےیہ کانپے ہاتھ کہ ساغر بھی ہم اٹھا نہ سکےMajrooh Sultanpuri (1919–2000)
- بہ سطح آب کوئی عکس ناتواں نہ پڑاہوا گزر بھی گئی اور کہیں نشاں نہ پڑاJafar Shirazi (b. 1920)
- دل و نگاہ پہ جس کو ہو اختیار چلےرہ وفا میں کوئی بھی نہ خام کار چلےRaees Niyazi (1920–1994)
- ہر آئنہ نے کہا رخصت غبار کے بعدیہاں تو کچھ بھی نہیں ہے جمال یار کے بعدRaees Niyazi (1920–1994)
- یہ بھول جا کہ ہیں تیرے بھی غم گسار بہتبنانا کاغذی پھولوں کے خشک ہار بہتRaees Niyazi (1920–1994)
- سزا کا حال سنائیں جزا کی بات کریںخدا ملا ہو جنہیں وہ خدا کی بات کریںSahir Ludhianvi (1921–1980)
- نہ تو زمیں کے لئے ہے نہ آسماں کے لیےترا وجود ہے اب صرف داستاں کے لیےSahir Ludhianvi (1921–1980)
- ہوس نصیب نظر کو کہیں قرار نہیںمیں منتظر ہوں مگر تیرا انتظار نہیںSahir Ludhianvi (1921–1980)
- کہیں جمال ازل ہم کو رونما نہ ملاملے تو حسن مگر حسن آپ سا نہ ملاDarshan Singh (1921–1989)
- گلوں پہ خاک محن کے سوا کچھ اور نہیںچمن میں یاد چمن کے سوا کچھ اور نہیںDarshan Singh (1921–1989)
- ہنسی گلوں میں ستاروں میں روشنی نہ ملیملے نہ تم تو کہیں بھی ہمیں خوشی نہ ملیDarshan Singh (1921–1989)