Poetry
Mujtass Musamman Makhbun Mahzuf
مجتث مثمن مخبون محذوف- بقدر جوش جنوں تار تار بھی نہ کیاوہ پیرہن جسے نذر بہار بھی نہ کیاQabil Ajmeri (1931–1962)
- وہ ہر مقام سے پہلے وہ ہر مقام کے بعدسحر تھی شام سے پہلے سحر ہے شام کے بعدQabil Ajmeri (1931–1962)
- عجیب قید لگائی ہے تم نے پیار کے ساتھخزاں نصیب رہوں رہ کے میں بہار کے ساتھDanish Aligarhi (b. 1931)
- قریب تم ہو تو ہر اک سے دوستی سی لگےجو تم ہو دور تو ذات اپنی اجنبی سی لگےDanish Aligarhi (b. 1931)
- یہ کیسے کہہ دوں کہ کچھ تم سے واسطہ ہی نہیںبچھڑ کے تم سے کہیں اور دل لگا ہی نہیںDanish Aligarhi (b. 1931)
- عجیب لطف محبت کی داستان میں ہےوفا کا تذکرہ دنیا کی ہر زبان میں ہےZafar Naseemi (b. 1931)
- نہ چھیڑ نام و نسب اور نسل و رنگ کی باتکہ چل نکلتی ہے اکثر یہیں سے جنگ کی باتZafar Naseemi (b. 1931)
- ابھی تو کرنا پڑے گا سفر دوبارہ مجھےابھی کریں نہیں آرام کا اشارہ مجھےZafar Iqbal (b. 1932)
- اٹھ اور پھر سے روانہ ہو ڈر زیادہ نہیںبہت کٹھن سہی منزل سفر زیادہ نہیںZafar Iqbal (b. 1932)
- بکھر بکھر گئے الفاظ سے ادا نہ ہوئےیہ زمزمے جو کسی درد کی دوا نہ ہوئےZafar Iqbal (b. 1932)
- پتا چلا کوئی گرداب سے گزرتے ہوئےنہ بند ہوتے ہوئے باب سے گزرتے ہوئےZafar Iqbal (b. 1932)
- ترے لبوں پہ اگر سرخی وفا ہی نہیںتو یہ بناؤ یہ سج دھج تجھے روا ہی نہیںZafar Iqbal (b. 1932)
- جہاں نگار سحر پیرہن اتارتی ہےوہیں پہ رات ستاروں کا کھیل ہارتی ہےZafar Iqbal (b. 1932)
- کوئی کنایہ کہیں اور بات کرتے ہوئےکوئی اشارہ ذرا دور سے گزرتے ہوئےZafar Iqbal (b. 1932)
- کھڑی ہے شام کہ خواب سفر رکا ہوا ہےیقین کیوں نہیں آتا اگر رکا ہوا ہےZafar Iqbal (b. 1932)
- ملا تو منزل جاں میں اتارنے نہ دیاوہ کھو گیا تو کسی نے پکارنے نہ دیاZafar Iqbal (b. 1932)
- میں زرد آگ نہ پانی کے سرد ڈر میں رہارہا تو سوئی ہوئی خاک کے خطر میں رہاZafar Iqbal (b. 1932)
- نہ گھاٹ ہے کوئی اپنا نہ گھر ہمارا ہواقیام اب کے سر رہگزر ہمارا ہواZafar Iqbal (b. 1932)
- ہمارے سر سے وہ طوفاں کہیں گزر گئے ہیںچڑھے ہوئے تھے جو دریا سبھی اتر گئے ہیںZafar Iqbal (b. 1932)
- ہمیں بھی مطلب و معنی کی جستجو ہے بہتحریف حرف مگر اب کے دو بہ دو ہے بہتZafar Iqbal (b. 1932)
- یہاں کسی کو بھی کچھ حسب آرزو نہ ملاکسی کو ہم نہ ملے اور ہم کو تو نہ ملاZafar Iqbal (b. 1932)
- ستم کا خوف نہیں ہے الم کی بات نہیںرہ طلب میں کسی پیچ و خم کی بات نہیںDaud Ghazi (1932–1963)
- خوشی ملی نہ اگر مجھ کو ذوق غم تو ملاملی نہ دولت دنیا مجھے قلم تو ملاJ. P. Saeed (b. 1932)
- سحر کا نور ہے تاروں کا انعکاس نہیںفریب خوردہ ہو تم یا ضیا شناس نہیںJ. P. Saeed (b. 1932)
- شکست و فتح مقابل سے بے نیاز تو ہےبہ فیض دار و رسن عشق سرفراز تو ہےJ. P. Saeed (b. 1932)
- یقین جس کا ہے وہ بات بھی گماں ہی لگےوہ مہربان ہے لیکن بلائے جاں ہی لگےJ. P. Saeed (b. 1932)
- حصار ذات کے دیوار و در میں قید رہےتمام عمر ہم اپنے ہی گھر میں قید رہےHafeez Banarasi (1933–2008)
- کبھی خرد کبھی دیوانگی نے لوٹ لیاطرح طرح سے ہمیں زندگی نے لوٹ لیاHafeez Banarasi (1933–2008)
- کسی کا گھر جلے اپنا ہی گھر لگے ہے مجھےوہ حال ہے کہ اجالوں سے ڈر لگے ہے مجھےHafeez Banarasi (1933–2008)
- خیال بد سے ہمہ وقت اجتناب کروفضائے شہر کو دانستہ مت خراب کروIbrat Bahraichi (1933–2021)
- جنون و شوق کا یہ سلسلہ چلے نہ چلےہمارے بعد ہماری نوا چلے نہ چلےRafeeq Pilibhiti (b. 1933)
- رہین عقل کو صحرا میں رہ گزر نہ ملیاماں جنوں کو تہ سایۂ شجر نہ ملیRafeeq Pilibhiti (b. 1933)
- رکے رکے سے قدم رک کے بار بار چلےقرار دے کے ترے در سے بے قرار چلےGulzar (b. 1934)
- کہیں تو گرد اڑے یا کہیں غبار دکھےکہیں سے آتا ہوا کوئی شہسوار دکھےGulzar (b. 1934)
- بجھے بجھے سے شرارے مجھے قبول نہیںسواد شب میں ستارے مجھے قبول نہیںShakeb Jalali (1934–1966)
- خرد فریب نظاروں کی کوئی بات کروجنوں نواز بہاروں کی کوئی بات کروShakeb Jalali (1934–1966)
- شفق جو روئے سحر پر گلال ملنے لگییہ بستیوں کی فضا کیوں دھواں اگلنے لگیShakeb Jalali (1934–1966)
- کنار آب کھڑا خود سے کہہ رہا ہے کوئیگماں گزرتا ہے یہ شخص دوسرا ہے کوئیShakeb Jalali (1934–1966)
- مریض غم کے سہارو کوئی تو بات کرواداس چاند ستارو کوئی تو بات کروShakeb Jalali (1934–1966)
- مرے خلوص کی شدت سے کوئی ڈر بھی گیاوہ پاس آ تو رہا تھا مگر ٹھہر بھی گیاShakeb Jalali (1934–1966)
- وہاں کی روشنیوں نے بھی ظلم ڈھائے بہتمیں اس گلی میں اکیلا تھا اور سائے بہتShakeb Jalali (1934–1966)
- جشن عیدShakeb Jalali (1934–1966)
- جہت کی تلاشShakeb Jalali (1934–1966)
- رخ حیات ہے شرمندۂ جمال بہتجمی ہوئی ہے ابھی گرد ماہ و سال بہتBakhsh Layalpuri (1934–2002)
- ترا خیال مجھے اس طرح پکارتا ہےکہ مندروں میں کوئی آرتی اتارتا ہےJagdish Prakash (b. 1935)
- نشاط منزل قلب و نظر کو یاد کروسفر میں اپنے کسی ہم سفر کو یاد کروRaees Akhtar (b. 1935)
- طلسم ختم چلو آہ بے اثر کا ہواوہ دیکھو جسم برہنہ ہر اک شجر کا ہواShahryar (1936–2012)
- زباں ملی بھی تو کس وقت بے زبانوں کوسنانے کے لیے جب کوئی داستاں نہ رہیShahryar (1936–2012)
- مجھے پسند نہیں ایسے کاروبار میں ہوںیہ جبر ہے کہ میں خود اپنے اختیار میں ہوںAdil Mansuri (1936–2008)
- سفید رات سے منسوب ہے لہو کا زوالصبا کے شانوں پہ بکھرے سنہری دھوپ کے بالAdil Mansuri (1936–2008)