Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download →

Poetry

Mujtass Musamman Makhbun Mahzuf

مجتث مثمن مخبون محذوف
Poet
Meter
Clear
  1. بقدر جوش جنوں تار تار بھی نہ کیاوہ پیرہن جسے نذر بہار بھی نہ کیاQabil Ajmeri (1931–1962)
  2. وہ ہر مقام سے پہلے وہ ہر مقام کے بعدسحر تھی شام سے پہلے سحر ہے شام کے بعدQabil Ajmeri (1931–1962)
  3. عجیب قید لگائی ہے تم نے پیار کے ساتھخزاں نصیب رہوں رہ کے میں بہار کے ساتھDanish Aligarhi (b. 1931)
  4. قریب تم ہو تو ہر اک سے دوستی سی لگےجو تم ہو دور تو ذات اپنی اجنبی سی لگےDanish Aligarhi (b. 1931)
  5. یہ کیسے کہہ دوں کہ کچھ تم سے واسطہ ہی نہیںبچھڑ کے تم سے کہیں اور دل لگا ہی نہیںDanish Aligarhi (b. 1931)
  6. عجیب لطف محبت کی داستان میں ہےوفا کا تذکرہ دنیا کی ہر زبان میں ہےZafar Naseemi (b. 1931)
  7. نہ چھیڑ نام و نسب اور نسل و رنگ کی باتکہ چل نکلتی ہے اکثر یہیں سے جنگ کی باتZafar Naseemi (b. 1931)
  8. ابھی تو کرنا پڑے گا سفر دوبارہ مجھےابھی کریں نہیں آرام کا اشارہ مجھےZafar Iqbal (b. 1932)
  9. اٹھ اور پھر سے روانہ ہو ڈر زیادہ نہیںبہت کٹھن سہی منزل سفر زیادہ نہیںZafar Iqbal (b. 1932)
  10. بکھر بکھر گئے الفاظ سے ادا نہ ہوئےیہ زمزمے جو کسی درد کی دوا نہ ہوئےZafar Iqbal (b. 1932)
  11. پتا چلا کوئی گرداب سے گزرتے ہوئےنہ بند ہوتے ہوئے باب سے گزرتے ہوئےZafar Iqbal (b. 1932)
  12. ترے لبوں پہ اگر سرخی وفا ہی نہیںتو یہ بناؤ یہ سج دھج تجھے روا ہی نہیںZafar Iqbal (b. 1932)
  13. جہاں نگار سحر پیرہن اتارتی ہےوہیں پہ رات ستاروں کا کھیل ہارتی ہےZafar Iqbal (b. 1932)
  14. کوئی کنایہ کہیں اور بات کرتے ہوئےکوئی اشارہ ذرا دور سے گزرتے ہوئےZafar Iqbal (b. 1932)
  15. کھڑی ہے شام کہ خواب سفر رکا ہوا ہےیقین کیوں نہیں آتا اگر رکا ہوا ہےZafar Iqbal (b. 1932)
  16. ملا تو منزل جاں میں اتارنے نہ دیاوہ کھو گیا تو کسی نے پکارنے نہ دیاZafar Iqbal (b. 1932)
  17. میں زرد آگ نہ پانی کے سرد ڈر میں رہارہا تو سوئی ہوئی خاک کے خطر میں رہاZafar Iqbal (b. 1932)
  18. نہ گھاٹ ہے کوئی اپنا نہ گھر ہمارا ہواقیام اب کے سر رہگزر ہمارا ہواZafar Iqbal (b. 1932)
  19. ہمارے سر سے وہ طوفاں کہیں گزر گئے ہیںچڑھے ہوئے تھے جو دریا سبھی اتر گئے ہیںZafar Iqbal (b. 1932)
  20. ہمیں بھی مطلب و معنی کی جستجو ہے بہتحریف حرف مگر اب کے دو بہ دو ہے بہتZafar Iqbal (b. 1932)
  21. یہاں کسی کو بھی کچھ حسب آرزو نہ ملاکسی کو ہم نہ ملے اور ہم کو تو نہ ملاZafar Iqbal (b. 1932)
  22. ستم کا خوف نہیں ہے الم کی بات نہیںرہ طلب میں کسی پیچ و خم کی بات نہیںDaud Ghazi (1932–1963)
  23. خوشی ملی نہ اگر مجھ کو ذوق غم تو ملاملی نہ دولت دنیا مجھے قلم تو ملاJ. P. Saeed (b. 1932)
  24. سحر کا نور ہے تاروں کا انعکاس نہیںفریب خوردہ ہو تم یا ضیا شناس نہیںJ. P. Saeed (b. 1932)
  25. شکست و فتح مقابل سے بے نیاز تو ہےبہ فیض دار و رسن عشق سرفراز تو ہےJ. P. Saeed (b. 1932)
  26. یقین جس کا ہے وہ بات بھی گماں ہی لگےوہ مہربان ہے لیکن بلائے جاں ہی لگےJ. P. Saeed (b. 1932)
  27. حصار ذات کے دیوار و در میں قید رہےتمام عمر ہم اپنے ہی گھر میں قید رہےHafeez Banarasi (1933–2008)
  28. کبھی خرد کبھی دیوانگی نے لوٹ لیاطرح طرح سے ہمیں زندگی نے لوٹ لیاHafeez Banarasi (1933–2008)
  29. کسی کا گھر جلے اپنا ہی گھر لگے ہے مجھےوہ حال ہے کہ اجالوں سے ڈر لگے ہے مجھےHafeez Banarasi (1933–2008)
  30. خیال بد سے ہمہ وقت اجتناب کروفضائے شہر کو دانستہ مت خراب کروIbrat Bahraichi (1933–2021)
  31. جنون و شوق کا یہ سلسلہ چلے نہ چلےہمارے بعد ہماری نوا چلے نہ چلےRafeeq Pilibhiti (b. 1933)
  32. رہین عقل کو صحرا میں رہ گزر نہ ملیاماں جنوں کو تہ سایۂ شجر نہ ملیRafeeq Pilibhiti (b. 1933)
  33. رکے رکے سے قدم رک کے بار بار چلےقرار دے کے ترے در سے بے قرار چلےGulzar (b. 1934)
  34. کہیں تو گرد اڑے یا کہیں غبار دکھےکہیں سے آتا ہوا کوئی شہسوار دکھےGulzar (b. 1934)
  35. بجھے بجھے سے شرارے مجھے قبول نہیںسواد شب میں ستارے مجھے قبول نہیںShakeb Jalali (1934–1966)
  36. خرد فریب نظاروں کی کوئی بات کروجنوں نواز بہاروں کی کوئی بات کروShakeb Jalali (1934–1966)
  37. شفق جو روئے سحر پر گلال ملنے لگییہ بستیوں کی فضا کیوں دھواں اگلنے لگیShakeb Jalali (1934–1966)
  38. کنار آب کھڑا خود سے کہہ رہا ہے کوئیگماں گزرتا ہے یہ شخص دوسرا ہے کوئیShakeb Jalali (1934–1966)
  39. مریض غم کے سہارو کوئی تو بات کرواداس چاند ستارو کوئی تو بات کروShakeb Jalali (1934–1966)
  40. مرے خلوص کی شدت سے کوئی ڈر بھی گیاوہ پاس آ تو رہا تھا مگر ٹھہر بھی گیاShakeb Jalali (1934–1966)
  41. وہاں کی روشنیوں نے بھی ظلم ڈھائے بہتمیں اس گلی میں اکیلا تھا اور سائے بہتShakeb Jalali (1934–1966)
  42. جشن عیدShakeb Jalali (1934–1966)
  43. جہت کی تلاشShakeb Jalali (1934–1966)
  44. رخ حیات ہے شرمندۂ جمال بہتجمی ہوئی ہے ابھی گرد ماہ و سال بہتBakhsh Layalpuri (1934–2002)
  45. ترا خیال مجھے اس طرح پکارتا ہےکہ مندروں میں کوئی آرتی اتارتا ہےJagdish Prakash (b. 1935)
  46. نشاط منزل قلب و نظر کو یاد کروسفر میں اپنے کسی ہم سفر کو یاد کروRaees Akhtar (b. 1935)
  47. طلسم ختم چلو آہ بے اثر کا ہواوہ دیکھو جسم برہنہ ہر اک شجر کا ہواShahryar (1936–2012)
  48. زباں ملی بھی تو کس وقت بے زبانوں کوسنانے کے لیے جب کوئی داستاں نہ رہیShahryar (1936–2012)
  49. مجھے پسند نہیں ایسے کاروبار میں ہوںیہ جبر ہے کہ میں خود اپنے اختیار میں ہوںAdil Mansuri (1936–2008)
  50. سفید رات سے منسوب ہے لہو کا زوالصبا کے شانوں پہ بکھرے سنہری دھوپ کے بالAdil Mansuri (1936–2008)