Poetry
Mutaqarib Musamman Mahzuf
متقارب مثمن محذوف- مری روح تن سے جدا ہو گئیکسی نے نہ جانا کہ کیا ہو گئیAkbar Allahabadi (1846–1921)
- غضب ہے وہ ضدی بڑے ہو گئےمیں لیٹا تو اٹھ کے کھڑے ہو گئےAkbar Allahabadi (1846–1921)
- برائی بھلائی کی صورت ہوئیمحبت میں سب کچھ روا ہو گیاPandit Jawahar Nath Saqi (1864–1916)
- جفا سے وفا مسترد ہو گئییہاں ہم بھی قائل ہیں حد ہو گئیMuztar Khairabadi (1865–1927)
- محبت کو کہتے ہو برتی بھی تھیچلو جاؤ بیٹھو کبھی کی بھی تھیMuztar Khairabadi (1865–1927)
- محبت میں جینا نئی بات ہےنہ مرنا بھی مر کر کرامات ہےSaail Dehlvi (1867–1945)
- شب وصل ہے بحث حجت عبثیہ شکوے عبث یہ شکایت عبثHafeez Jaunpuri (1868–1959)
- بہت دور تو کچھ نہیں گھر مراچلے آؤ اک دن ٹہلتے ہوئےHafeez Jaunpuri (1868–1959)
- کبھی کی تھی جو اب وفا کیجئے گامجھے پوچھ کر آپ کیا کیجئے گاHasrat Mohani (1875–1951)
- ماں کا خوابAllama Iqbal (1877–1938)
- ساقی نامہAllama Iqbal (1877–1938)
- پنچاب کے دہقان سےAllama Iqbal (1877–1938)
- خوشحال خاں کی وصیتAllama Iqbal (1877–1938)
- خودیAllama Iqbal (1877–1938)
- زمانے کو زیر و زبر کر دیایہ کیا تو نے اے چشم تر کر دیاFaheemuddin Ahmad Faheem (1877–1922)
- وہ کہتے ہیں اٹھو سحر ہو گئیازاں ہو گئی توپ سر ہو گئیAagha Akbarabadi (b. 1879)
- مروت کا پاس اور وفا کا لحاظکرے آشنا آشنا کا لحاظWahshat Kalkatvi (1881–1956)
- وہ خوش ہو کے مجھ سے خفا ہو گیامجھے کیا امیدیں تھیں کیا ہو گیاJagat Mohan Lal Ravan (1889–1934)
- شب وصل کیا مختصر ہو گئیذرا آنکھ جھپکی سحر ہو گئیJigar Moradabadi (1890–1960)
- سدا رنگ مینا چمکتا رہاہمیشہ یہ سبزہ لہکتا رہاShad Lakhnavi (d. 1892)
- وفا جس سے کی بے وفا ہو گیاجسے بت بنایا خدا ہو گیاHafeez Jalandhari (1900–1982)
- بہت خوش تھے ساحل قریب آ گیاسفینہ کنارے سے ٹکرا گیاJaimini Sarshar (1904–1984)
- کریں کس لیے ہم کسی کا لحاظکسی کو نہیں جب ہمارا لحاظJaimini Sarshar (1904–1984)
- جگر اور دل کو بچانا بھی ہےنظر آپ ہی سے ملانا بھی ہےMajaz Lakhnawi (1911–1955)
- ستائش سے ہوتے نہیں شادماںملامت سے ہم تلملاتے نہیںOm Prakash Laghar (b. 1924)
- مقدر کی کیوں ہم شکایت کریںجو مل جائے اس پر قناعت کریںOm Prakash Laghar (b. 1924)
- میں روؤں ہوں رونا مجھے بھائے ہےکسی کا بھلا اس میں کیا جائے ہےKaleem Aajiz (1926–2015)
- گئے لیٹنے رات ڈھلتے ہوئےاٹھے صبح کو آنکھ ملتے ہوئےKaleem Aajiz (1926–2015)
- جو دیکھے تھے جادو ترے ہات کےہیں چرچے ابھی تک اسی بات کےMunir Niazi (1928–2006)
- ردا اس چمن کی اڑا لے گئیدرختوں کے پتے ہوا لے گئیMunir Niazi (1928–2006)
- بتا منزل شوق کیا ہو گیامری کوششوں کا صلہ کھو گیاEhsan Jafri (1929–2002)
- یہاں کون اس کے سوا رہ گیازمانہ گیا آئنہ رہ گیاGauhar Hoshiyarpuri (1930–2000)
- یہ قدرت کے ہاتھوں کے دل کش صنمکہیں دیکھ کر بت نہ بن جائیں ہمParkash Nath Parvez (b. 1930)
- خدا رام ہے اور خدا ایشوروہ بھگوان ہے کل جہاں اس کا گھرVaqar Khaleel (b. 1930)
- نہ پوچھ اس کی جو اپنے اندر چھپاغنیمت کہ میں اپنے باہر چھپاJaun Elia (1931–2002)
- ہوا سے اجڑ کر بکھر کیوں گئےوہ پتے جو سرسبز شاخوں پہ تھےParkash Fikri (1931–2008)
- فسوں کر گئی رات پاگل ہوااڑا لے گئی سرخ آنچل ہواM Kothiyavi Rahi (1935–2005)
- بہت شور تھا جب سماعت گئیبہت بھیڑ تھی جب اکیلے ہوئےShahryar (1936–2012)
- بدن پر نئی فصل آنے لگیہوا دل میں خواہش جگانے لگیAdil Mansuri (1936–2008)
- زمیں چھوڑ کر میں کدھر جاؤں گااندھیروں کے اندر اتر جاؤں گاAdil Mansuri (1936–2008)
- وہ برسات کی شب وہ پچھلا پہراندھیرے کے پہلو میں سنسان گھرAdil Mansuri (1936–2008)
- وہ گھر چھوڑ کر جا رہا ہے سنوخدا کے لیے کوئی تو روک لوAdil Mansuri (1936–2008)
- ہوا ختم دریا تو صحرا لگاسفر کا تسلسل کہاں جا لگاAdil Mansuri (1936–2008)
- ستم پر ستم سہہ رہی ہے زمیںمگر منہ سے کب بولتی ہے زمیںTahir Tilhari (b. 1936)
- جسے دیکھتے ہی خماری لگےاسے عمر ساری ہماری لگےNida Fazli (1938–2016)
- وہ چنگاریوں کو ہوا دے گیاسمندر تھا لیکن یہ کیا دے گیاGhayas Mateen (b. 1939)
- بری بات ان کو ہماری لگےہمیں ان کی ہر بات پیاری لگےJafar Raza (1939–2022)
- شرارہ صفت سرد آہوں میں تھامرا میں مری اپنی بانہوں میں تھاGhayur Jafari (1946–2001)
- کبھی خاک میں لاش ڈھک جائے گیاندھیرے میں ہڈی چمک جائے گیGhayur Jafari (1946–2001)
- جو ہم پر ہوا ہے کرم دیکھناوہ ڈھائے گا کیا کیا ستم دیکھناZafar Adil Quraishi (b. 1948)