Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download →

Poetry

Mutaqarib Musamman Mahzuf

متقارب مثمن محذوف
Poet
Meter
Clear
  1. مری روح تن سے جدا ہو گئیکسی نے نہ جانا کہ کیا ہو گئیAkbar Allahabadi (1846–1921)
  2. غضب ہے وہ ضدی بڑے ہو گئےمیں لیٹا تو اٹھ کے کھڑے ہو گئےAkbar Allahabadi (1846–1921)
  3. برائی بھلائی کی صورت ہوئیمحبت میں سب کچھ روا ہو گیاPandit Jawahar Nath Saqi (1864–1916)
  4. جفا سے وفا مسترد ہو گئییہاں ہم بھی قائل ہیں حد ہو گئیMuztar Khairabadi (1865–1927)
  5. محبت کو کہتے ہو برتی بھی تھیچلو جاؤ بیٹھو کبھی کی بھی تھیMuztar Khairabadi (1865–1927)
  6. محبت میں جینا نئی بات ہےنہ مرنا بھی مر کر کرامات ہےSaail Dehlvi (1867–1945)
  7. شب وصل ہے بحث حجت عبثیہ شکوے عبث یہ شکایت عبثHafeez Jaunpuri (1868–1959)
  8. بہت دور تو کچھ نہیں گھر مراچلے آؤ اک دن ٹہلتے ہوئےHafeez Jaunpuri (1868–1959)
  9. کبھی کی تھی جو اب وفا کیجئے گامجھے پوچھ کر آپ کیا کیجئے گاHasrat Mohani (1875–1951)
  10. ماں کا خوابAllama Iqbal (1877–1938)
  11. ساقی نامہAllama Iqbal (1877–1938)
  12. پنچاب کے دہقان سےAllama Iqbal (1877–1938)
  13. خوشحال خاں کی وصیتAllama Iqbal (1877–1938)
  14. خودیAllama Iqbal (1877–1938)
  15. زمانے کو زیر و زبر کر دیایہ کیا تو نے اے چشم تر کر دیاFaheemuddin Ahmad Faheem (1877–1922)
  16. وہ کہتے ہیں اٹھو سحر ہو گئیازاں ہو گئی توپ سر ہو گئیAagha Akbarabadi (b. 1879)
  17. مروت کا پاس اور وفا کا لحاظکرے آشنا آشنا کا لحاظWahshat Kalkatvi (1881–1956)
  18. وہ خوش ہو کے مجھ سے خفا ہو گیامجھے کیا امیدیں تھیں کیا ہو گیاJagat Mohan Lal Ravan (1889–1934)
  19. شب وصل کیا مختصر ہو گئیذرا آنکھ جھپکی سحر ہو گئیJigar Moradabadi (1890–1960)
  20. سدا رنگ مینا چمکتا رہاہمیشہ یہ سبزہ لہکتا رہاShad Lakhnavi (d. 1892)
  21. وفا جس سے کی بے وفا ہو گیاجسے بت بنایا خدا ہو گیاHafeez Jalandhari (1900–1982)
  22. بہت خوش تھے ساحل قریب آ گیاسفینہ کنارے سے ٹکرا گیاJaimini Sarshar (1904–1984)
  23. کریں کس لیے ہم کسی کا لحاظکسی کو نہیں جب ہمارا لحاظJaimini Sarshar (1904–1984)
  24. جگر اور دل کو بچانا بھی ہےنظر آپ ہی سے ملانا بھی ہےMajaz Lakhnawi (1911–1955)
  25. ستائش سے ہوتے نہیں شادماںملامت سے ہم تلملاتے نہیںOm Prakash Laghar (b. 1924)
  26. مقدر کی کیوں ہم شکایت کریںجو مل جائے اس پر قناعت کریںOm Prakash Laghar (b. 1924)
  27. میں روؤں ہوں رونا مجھے بھائے ہےکسی کا بھلا اس میں کیا جائے ہےKaleem Aajiz (1926–2015)
  28. گئے لیٹنے رات ڈھلتے ہوئےاٹھے صبح کو آنکھ ملتے ہوئےKaleem Aajiz (1926–2015)
  29. جو دیکھے تھے جادو ترے ہات کےہیں چرچے ابھی تک اسی بات کےMunir Niazi (1928–2006)
  30. ردا اس چمن کی اڑا لے گئیدرختوں کے پتے ہوا لے گئیMunir Niazi (1928–2006)
  31. بتا منزل شوق کیا ہو گیامری کوششوں کا صلہ کھو گیاEhsan Jafri (1929–2002)
  32. یہاں کون اس کے سوا رہ گیازمانہ گیا آئنہ رہ گیاGauhar Hoshiyarpuri (1930–2000)
  33. یہ قدرت کے ہاتھوں کے دل کش صنمکہیں دیکھ کر بت نہ بن جائیں ہمParkash Nath Parvez (b. 1930)
  34. خدا رام ہے اور خدا ایشوروہ بھگوان ہے کل جہاں اس کا گھرVaqar Khaleel (b. 1930)
  35. نہ پوچھ اس کی جو اپنے اندر چھپاغنیمت کہ میں اپنے باہر چھپاJaun Elia (1931–2002)
  36. ہوا سے اجڑ کر بکھر کیوں گئےوہ پتے جو سرسبز شاخوں پہ تھےParkash Fikri (1931–2008)
  37. فسوں کر گئی رات پاگل ہوااڑا لے گئی سرخ آنچل ہواM Kothiyavi Rahi (1935–2005)
  38. بہت شور تھا جب سماعت گئیبہت بھیڑ تھی جب اکیلے ہوئےShahryar (1936–2012)
  39. بدن پر نئی فصل آنے لگیہوا دل میں خواہش جگانے لگیAdil Mansuri (1936–2008)
  40. زمیں چھوڑ کر میں کدھر جاؤں گااندھیروں کے اندر اتر جاؤں گاAdil Mansuri (1936–2008)
  41. وہ برسات کی شب وہ پچھلا پہراندھیرے کے پہلو میں سنسان گھرAdil Mansuri (1936–2008)
  42. وہ گھر چھوڑ کر جا رہا ہے سنوخدا کے لیے کوئی تو روک لوAdil Mansuri (1936–2008)
  43. ہوا ختم دریا تو صحرا لگاسفر کا تسلسل کہاں جا لگاAdil Mansuri (1936–2008)
  44. ستم پر ستم سہہ رہی ہے زمیںمگر منہ سے کب بولتی ہے زمیںTahir Tilhari (b. 1936)
  45. جسے دیکھتے ہی خماری لگےاسے عمر ساری ہماری لگےNida Fazli (1938–2016)
  46. وہ چنگاریوں کو ہوا دے گیاسمندر تھا لیکن یہ کیا دے گیاGhayas Mateen (b. 1939)
  47. بری بات ان کو ہماری لگےہمیں ان کی ہر بات پیاری لگےJafar Raza (1939–2022)
  48. شرارہ صفت سرد آہوں میں تھامرا میں مری اپنی بانہوں میں تھاGhayur Jafari (1946–2001)
  49. کبھی خاک میں لاش ڈھک جائے گیاندھیرے میں ہڈی چمک جائے گیGhayur Jafari (1946–2001)
  50. جو ہم پر ہوا ہے کرم دیکھناوہ ڈھائے گا کیا کیا ستم دیکھناZafar Adil Quraishi (b. 1948)