Poetry
Ramal Musamman Mashkul Musakkan
رمل مثمن مشکول مسکّن- دیوار پھاندنے میں دیکھوگے کام میراجب دھم سے آ کہوں گا صاحب سلام میراInsha Allah Khan Insha (1752–1817)
- سر چشم صبر دل دیں تن مال جان آٹھوںصدقہ کئی ہیں تم پر لو مہربان آٹھوںInsha Allah Khan Insha (1752–1817)
- جاڑے میں کیا مزہ ہو وہ تو سمٹ رہے ہوںاور کھول کر رضائی ہم بھی لپٹ رہے ہوںInsha Allah Khan Insha (1752–1817)
- صورت سے اس کی بہتر صورت نہیں ہے کوئیدیدار یار سی بھی دولت نہیں ہے کوئیHaidar Ali Aatish (1778–1847)
- جب تک کہ دل نہ لاگا ان بے مروتوں سےایام اپنے گزرے کیا کیا فراغتوں سےMir Mohammadi Bedar (d. 1786)
- آتے ہی تو نے گھر کے پھر جانے کی سنائیرہ جاؤں سن نہ کیونکر یہ تو بری سنائیSheikh Ibrahim Zauq (1790–1854)
- بھٹکا پھرے ہے مجنوں لیلیٰ کے قافلے میںیہ پوچھتا کہ یارو محمل کدھر گیا ہےLala Kanji Mal Saba (b. 1792)
- کیا تو نے کچھ صباؔ سے اے تند خو کہا ہےروتا ہوا ادھر سے با چشم تر گیا ہےLala Kanji Mal Saba (b. 1792)
- رشک عدو میں دیکھو جاں تک گنوا ہی دیں گےلو جھوٹ جانتے ہو اک دن دکھا ہی دیں گےNaseem Dehlvi (1794–1864)
- میں اور بزمِ مے سے یوں تشنہ کام آؤںگر میں نے کی تھی توبہ، ساقی کو کیا ہوا تھا؟Mirza Ghalib (1797–1869)
- حاصل سے ہاتھ دھو بیٹھ اے آرزو خرامیدل جوش گریہ میں ہے ڈوبی ہوئی اسامیMirza Ghalib (1797–1869)
- ربطِ تمیزِ اعیاں دُردِ مئے صدا ہےاعمیٰ کو سرمۂ چشم آوازِ آشنا ہےMirza Ghalib (1797–1869)
- گر یاس سر نہ کھینچے تنگی عجب فضا ہےوسعت گہِ تمنا یک بام و صد ہوا ہےMirza Ghalib (1797–1869)
- یک گامِ بے خودی سے لوٹیں بہارِ صحراآغوشِ نقشِ پا میں کیجے فشارِ صحراMirza Ghalib (1797–1869)
- ہے کچھ تو بات مومنؔ جو چھا گئی خموشیکس بت کو دے دیا دل کیوں بت سے بن گئے ہوMomin Khan Momin (1800–1852)
- اے زلف اس کے منہ سے تو تو لپٹ رہی ہےگیسو کو کاٹیو مت وہ آپ کٹ رہی ہےJoshish Azimabadi (d. 1830)
- دنیا کی جستجو تو ہم سے نہ ہو سکے گییہ منت آرزو تو ہم سے نہ ہو سکے گیJoshish Azimabadi (d. 1830)
- کافر ہوں گر کسی کو دیوانہ جانتا ہوںاحوال قیس کا بھی افسانہ جانتا ہوںJoshish Azimabadi (d. 1830)
- زاہد نہ کہہ بری کہ یہ مستانے آدمی ہیںتجھ کو لپٹ پڑیں گے دیوانے آدمی ہیںDagh Dehlvi (1831–1905)
- اے خار خار حسرت کیا کیا فگار ہیں ہمکیا حال ہوگا اس کا جس دل میں خار ہیں ہمQalaq Meerathi (1835–1880)
- تھک تھک گئے ہیں عاشق درماندۂ فغاں ہویا رب کہیں وہ غفلت فریاد بے کساں ہوQalaq Meerathi (1835–1880)
- خود کو کبھی نہ دیکھا آئینے ہی کو دیکھاہم سے تو کیا کہ خود سے نا آشنا رہا ہےQalaq Meerathi (1835–1880)
- وہ ذکر تھا تمہارا جو انتہا سے گزرایہ قصہ ہے ہمارا جو ناتمام نکلاQalaq Meerathi (1835–1880)
- کہنا بڑوں کا مانوAltaf Hussain Hali (1837–1914)
- تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایاکیسی زمیں بنائی ، کیا آسماں بنایاIsmail Meeruthi (1844–1917)
- چڑیا کے بچےIsmail Meeruthi (1844–1917)
- تو نے جسے بنایا اس کو بگاڑ ڈالااے چرخ میں نے اپنی عرضی کو پھاڑ ڈالاAkbar Allahabadi (1846–1921)
- جو مل گیا وہ کھانا داتا کا نام جپنااس کے سوا بتاؤں کیا تم سے کام اپناAkbar Allahabadi (1846–1921)
- عالم ہے بے خودی کا مے کی دکان پر ہیںساقی پہ ہیں نگاہیں ہوش آسمان پر ہیںAkbar Allahabadi (1846–1921)
- یہ سست ہے تو پھر کیا وہ تیز ہے تو پھر کیانیٹیو جو ہے تو پھر کیا انگریز ہے تو پھر کیاAkbar Allahabadi (1846–1921)
- منہ زیر تاک کھولا واعظ بہت ہی چوکابیلوں نے داڑھی پکڑی خوشوں نے منہ میں تھوکاRiyaz Khairabadi (1853–1934)
- اس واسطے عدم کی منزل کو ڈھونڈتے ہیںمدت سے دوستوں کی محفل کو ڈھونڈتے ہیںNazm Tabatabai (1854–1933)
- پرسش جو ہوگی تجھ سے جلاد کیا کرے گالے خون میں نے بخشا تو یاد کیا کرے گاNazm Tabatabai (1854–1933)
- کیا کاروان ہستی گزرا روا روی میںفردا کو میں نے دیکھا گرد و غبار دی میںNazm Tabatabai (1854–1933)
- کر سیر اپنے دل کی ہے نور کا تماشاہاں دیکھ بن کے موسیٰ اس طور کا تماشاPandit Jawahar Nath Saqi (1864–1916)
- ملتے نہیں ہو ہم سے یہ کیا ہوا وتیراملنے لگا ہے شاید اب تم سے کوئی خیراPandit Jawahar Nath Saqi (1864–1916)
- اے عشق فتنہ ساماں کر دے تو حشر برپاکیا یہ نہیں قیامت عالم ہے تیرا شیداMaharaja Sir Kishan Parashad Shad (1864–1940)
- بیٹھے ہوئے ہیں ہم خود آنکھوں میں دھول ڈالےاے روئے یار تو نے پردے فضول ڈالےMuztar Khairabadi (1865–1927)
- مکتب کی عاشقی بھی تاریخ زندگی تھیفاضل تھا گھر سے مجنوں لیلیٰ پڑھی لکھی تھیMuztar Khairabadi (1865–1927)
- الفت کے امتحاں میں اغیار فیل نکلےتھے پاس ایک ہم ہی جو جاں پہ کھیل نکلےBrij Mohan Dattatreya Kaifi (1866–1955)
- میں چپ رہوں تو گویا رنج و غم نہاں ہوںبولوں تو سر سے پا تک حسرت کی داستاں ہوںParveen Umm-e-Mushtaq (b. 1866)
- افسردگئ دل سے یہ رنگ ہے سخن میںیعنی خزاں رسیدہ کچھ پھول ہیں چمن میںHafeez Jaunpuri (1868–1959)
- دل کو اسی سبب سے ہے اضطراب شایدقاصد پھرا ہے لے کر خط کا جواب شایدHafeez Jaunpuri (1868–1959)
- ہم کو دکھا دکھا کے غیروں کے عطر ملناآتا ہے خوب تم کو چھاتی پہ مونگ دلناHafeez Jaunpuri (1868–1959)
- یوں تو حسین اکثر ہوتے ہیں شان والےلیکن کچھ اور ہے تو او آن بان والےHafeez Jaunpuri (1868–1959)
- تھے چور میکدے کے مسجد کے رہنے والےمے سے بھرا ہوا ہے جو ظرف ہے وضو کاHafeez Jaunpuri (1868–1959)
- پھر چاہے تو نہ آنا او آن بان والےجھوٹا ہی وعدہ کر لے سچی زبان والےArzoo Lakhnavi (1873–1951)
- یوں دور دور دل سے ہو ہو کے دل نشیں بھیہیں تو اسی جہاں میں ملتے نہیں کہیں بھیArzoo Lakhnavi (1873–1951)
- یہ داستان دل ہے کیا ہو ادا زباں سےآنسو ٹپک رہے ہیں لفظیں ملیں کہاں سےArzoo Lakhnavi (1873–1951)
- قربت بڑھا بڑھا کر بے خود بنا رہے ہیںمیں دور ہٹ رہا ہوں وہ پاس آ رہے ہیںArzoo Lakhnavi (1873–1951)