Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download →

Poetry

Ramal Musamman Mashkul Musakkan

رمل مثمن مشکول مسکّن
Poet
Meter
Clear
  1. دیوار پھاندنے میں دیکھوگے کام میراجب دھم سے آ کہوں گا صاحب سلام میراInsha Allah Khan Insha (1752–1817)
  2. سر چشم صبر دل دیں تن مال جان آٹھوںصدقہ کئی ہیں تم پر لو مہربان آٹھوںInsha Allah Khan Insha (1752–1817)
  3. جاڑے میں کیا مزہ ہو وہ تو سمٹ رہے ہوںاور کھول کر رضائی ہم بھی لپٹ رہے ہوںInsha Allah Khan Insha (1752–1817)
  4. صورت سے اس کی بہتر صورت نہیں ہے کوئیدیدار یار سی بھی دولت نہیں ہے کوئیHaidar Ali Aatish (1778–1847)
  5. جب تک کہ دل نہ لاگا ان بے مروتوں سےایام اپنے گزرے کیا کیا فراغتوں سےMir Mohammadi Bedar (d. 1786)
  6. آتے ہی تو نے گھر کے پھر جانے کی سنائیرہ جاؤں سن نہ کیونکر یہ تو بری سنائیSheikh Ibrahim Zauq (1790–1854)
  7. بھٹکا پھرے ہے مجنوں لیلیٰ کے قافلے میںیہ پوچھتا کہ یارو محمل کدھر گیا ہےLala Kanji Mal Saba (b. 1792)
  8. کیا تو نے کچھ صباؔ سے اے تند خو کہا ہےروتا ہوا ادھر سے با چشم تر گیا ہےLala Kanji Mal Saba (b. 1792)
  9. رشک عدو میں دیکھو جاں تک گنوا ہی دیں گےلو جھوٹ جانتے ہو اک دن دکھا ہی دیں گےNaseem Dehlvi (1794–1864)
  10. میں اور بزمِ مے سے یوں تشنہ کام آؤںگر میں نے کی تھی توبہ، ساقی کو کیا ہوا تھا؟Mirza Ghalib (1797–1869)
  11. حاصل سے ہاتھ دھو بیٹھ اے آرزو خرامیدل جوش گریہ میں ہے ڈوبی ہوئی اسامیMirza Ghalib (1797–1869)
  12. ربطِ تمیزِ اعیاں دُردِ مئے صدا ہےاعمیٰ کو سرمۂ چشم آوازِ آشنا ہےMirza Ghalib (1797–1869)
  13. گر یاس سر نہ کھینچے تنگی عجب فضا ہےوسعت گہِ تمنا یک بام و صد ہوا ہےMirza Ghalib (1797–1869)
  14. یک گامِ بے خودی سے لوٹیں بہارِ صحراآغوشِ نقشِ پا میں کیجے فشارِ صحراMirza Ghalib (1797–1869)
  15. ہے کچھ تو بات مومنؔ جو چھا گئی خموشیکس بت کو دے دیا دل کیوں بت سے بن گئے ہوMomin Khan Momin (1800–1852)
  16. اے زلف اس کے منہ سے تو تو لپٹ رہی ہےگیسو کو کاٹیو مت وہ آپ کٹ رہی ہےJoshish Azimabadi (d. 1830)
  17. دنیا کی جستجو تو ہم سے نہ ہو سکے گییہ منت آرزو تو ہم سے نہ ہو سکے گیJoshish Azimabadi (d. 1830)
  18. کافر ہوں گر کسی کو دیوانہ جانتا ہوںاحوال قیس کا بھی افسانہ جانتا ہوںJoshish Azimabadi (d. 1830)
  19. زاہد نہ کہہ بری کہ یہ مستانے آدمی ہیںتجھ کو لپٹ پڑیں گے دیوانے آدمی ہیںDagh Dehlvi (1831–1905)
  20. اے خار خار حسرت کیا کیا فگار ہیں ہمکیا حال ہوگا اس کا جس دل میں خار ہیں ہمQalaq Meerathi (1835–1880)
  21. تھک تھک گئے ہیں عاشق درماندۂ فغاں ہویا رب کہیں وہ غفلت فریاد بے کساں ہوQalaq Meerathi (1835–1880)
  22. خود کو کبھی نہ دیکھا آئینے ہی کو دیکھاہم سے تو کیا کہ خود سے نا آشنا رہا ہےQalaq Meerathi (1835–1880)
  23. وہ ذکر تھا تمہارا جو انتہا سے گزرایہ قصہ ہے ہمارا جو ناتمام نکلاQalaq Meerathi (1835–1880)
  24. کہنا بڑوں کا مانوAltaf Hussain Hali (1837–1914)
  25. تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایاکیسی زمیں بنائی ، کیا آسماں بنایاIsmail Meeruthi (1844–1917)
  26. چڑیا کے بچےIsmail Meeruthi (1844–1917)
  27. تو نے جسے بنایا اس کو بگاڑ ڈالااے چرخ میں نے اپنی عرضی کو پھاڑ ڈالاAkbar Allahabadi (1846–1921)
  28. جو مل گیا وہ کھانا داتا کا نام جپنااس کے سوا بتاؤں کیا تم سے کام اپناAkbar Allahabadi (1846–1921)
  29. عالم ہے بے خودی کا مے کی دکان پر ہیںساقی پہ ہیں نگاہیں ہوش آسمان پر ہیںAkbar Allahabadi (1846–1921)
  30. یہ سست ہے تو پھر کیا وہ تیز ہے تو پھر کیانیٹیو جو ہے تو پھر کیا انگریز ہے تو پھر کیاAkbar Allahabadi (1846–1921)
  31. منہ زیر تاک کھولا واعظ بہت ہی چوکابیلوں نے داڑھی پکڑی خوشوں نے منہ میں تھوکاRiyaz Khairabadi (1853–1934)
  32. اس واسطے عدم کی منزل کو ڈھونڈتے ہیںمدت سے دوستوں کی محفل کو ڈھونڈتے ہیںNazm Tabatabai (1854–1933)
  33. پرسش جو ہوگی تجھ سے جلاد کیا کرے گالے خون میں نے بخشا تو یاد کیا کرے گاNazm Tabatabai (1854–1933)
  34. کیا کاروان ہستی گزرا روا روی میںفردا کو میں نے دیکھا گرد و غبار دی میںNazm Tabatabai (1854–1933)
  35. کر سیر اپنے دل کی ہے نور کا تماشاہاں دیکھ بن کے موسیٰ اس طور کا تماشاPandit Jawahar Nath Saqi (1864–1916)
  36. ملتے نہیں ہو ہم سے یہ کیا ہوا وتیراملنے لگا ہے شاید اب تم سے کوئی خیراPandit Jawahar Nath Saqi (1864–1916)
  37. اے عشق فتنہ ساماں کر دے تو حشر برپاکیا یہ نہیں قیامت عالم ہے تیرا شیداMaharaja Sir Kishan Parashad Shad (1864–1940)
  38. بیٹھے ہوئے ہیں ہم خود آنکھوں میں دھول ڈالےاے روئے یار تو نے پردے فضول ڈالےMuztar Khairabadi (1865–1927)
  39. مکتب کی عاشقی بھی تاریخ زندگی تھیفاضل تھا گھر سے مجنوں لیلیٰ پڑھی لکھی تھیMuztar Khairabadi (1865–1927)
  40. الفت کے امتحاں میں اغیار فیل نکلےتھے پاس ایک ہم ہی جو جاں پہ کھیل نکلےBrij Mohan Dattatreya Kaifi (1866–1955)
  41. میں چپ رہوں تو گویا رنج و غم نہاں ہوںبولوں تو سر سے پا تک حسرت کی داستاں ہوںParveen Umm-e-Mushtaq (b. 1866)
  42. افسردگئ دل سے یہ رنگ ہے سخن میںیعنی خزاں رسیدہ کچھ پھول ہیں چمن میںHafeez Jaunpuri (1868–1959)
  43. دل کو اسی سبب سے ہے اضطراب شایدقاصد پھرا ہے لے کر خط کا جواب شایدHafeez Jaunpuri (1868–1959)
  44. ہم کو دکھا دکھا کے غیروں کے عطر ملناآتا ہے خوب تم کو چھاتی پہ مونگ دلناHafeez Jaunpuri (1868–1959)
  45. یوں تو حسین اکثر ہوتے ہیں شان والےلیکن کچھ اور ہے تو او آن بان والےHafeez Jaunpuri (1868–1959)
  46. تھے چور میکدے کے مسجد کے رہنے والےمے سے بھرا ہوا ہے جو ظرف ہے وضو کاHafeez Jaunpuri (1868–1959)
  47. پھر چاہے تو نہ آنا او آن بان والےجھوٹا ہی وعدہ کر لے سچی زبان والےArzoo Lakhnavi (1873–1951)
  48. یوں دور دور دل سے ہو ہو کے دل نشیں بھیہیں تو اسی جہاں میں ملتے نہیں کہیں بھیArzoo Lakhnavi (1873–1951)
  49. یہ داستان دل ہے کیا ہو ادا زباں سےآنسو ٹپک رہے ہیں لفظیں ملیں کہاں سےArzoo Lakhnavi (1873–1951)
  50. قربت بڑھا بڑھا کر بے خود بنا رہے ہیںمیں دور ہٹ رہا ہوں وہ پاس آ رہے ہیںArzoo Lakhnavi (1873–1951)